.

غزہ میں حماس کے راکٹ چوری کرنے پر متعدد سلفیوں کی گرفتاریاں

سلفیوں کا حکمراں جماعت پر نظریاتی بنیاد پر کریک ڈاؤن کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمران فلسطینی جماعت حماس نے متعدد بنیاد پرست سلفیوں کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کرلیا ہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت کے تحت وزارت داخلہ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک عسکریت پسند کی شہادت کے دو روز بعد سخت گیر سلفیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ ان سلفیوں کو داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر پکڑا گیا ہے اور ان کے خلاف نظریاتی یا سیاسی وجوہ کی بنا پر کارروائی نہیں کی گئی۔

بیان کے مطابق ''گرفتار کیے گئے افراد میں سے چار پر حماس کے ملکیتی راکٹ چوری کرنے کا الزام ہے اور دو کو بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان دھماکوں میں جانی اور مالی نقصان ہوا تھا''۔تاہم گرفتارشدگان کی حقیقی تعداد نہیں بتائی گئی۔

دوسری جانب سلفی گروپ کی مجاہدین شوریٰ کونسل (ایم ایس سی) نے کہا ہے کہ ان کے مجاہدین کو نظریاتی وجوہ کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے حماس کے راکٹوں کی چوری کے واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

غزہ میں سلفیوں کو حماس کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر تصور کیا جاتا ہے۔ سلفیوں نے حماس کو اسرائیل کے ساتھ محاذآرائی اور اسلامی شریعت پر عمل درآمد کے معاملے پر چیلنج کررکھا ہے اور اسی کے پیش نظر ان کی جہادی سرگرمیوں پر ان کے خلاف کریک ڈاؤن کی نوبت آئی ہے۔

منگل کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں سلفی گروپ سے تعلق رکھنے والا نوجوان مجاہد شہید ہوگیا تھا۔اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق فوج نے راکٹ بنانے کے ماہر ایک جہادی پر حملہ کیا تھا۔اس ترجمان کے بہ قول اس شخص نے جزیرہ نما سیناء سے اسرائِیلی بندرگاہ ایلات کی جانب سترہ اپریل کو راکٹ حملے میں کردار ادا کیا تھا۔تاہم اس حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

واضح رہے کہ ایم ایس سی نے گذشتہ چند ماہ کے دوران غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب لاتعداد راکٹ فائر کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی لیکن اس نے سترہ اپریل کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی علاقے پر راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔