شام کے ساحلی شہر بانیاس کے سنی اکثریتی علاقے سے 62 لاشیں برآمد

مقتولین میں عورتیں اور بچے شامل،سیکڑوں خاندان گھربار چھوڑ کر دربدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے ساحلی شہر بانیاس کے سنی آبادی والے ایک علاقے سے باسٹھ مقتولین کی لاشیں ملی ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ بانیاس کے علاقے راس النبا میں قتل عام کا واقعہ نزدیک واقع گاؤں بائدہ میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کے حامی جنگجوؤں کے ہاتھوں سنیوں کی ہلاکتوں کے دوروز بعد پیش آیا ہے۔تمام باسٹھ مقتولین کی ان کے ناموں ،تصاویر یا ویڈیوز سے شناخت کر لی گَئی ہے اور ان میں چودہ بچے بھی شامل ہیں۔

آبزرویٹری نے آن لائن ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے جس میں دس افراد کی لاشیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ان میں نصف یعنی پانچ بچے ہیں۔وہ خون میں لتھڑے ہوئے ہیں اور ان میں ایک بچے کی ٹانگیں اور کپڑے جھلسے ہوئے ہیں۔تاہم حکومت مخالف گروپ کی جانب سے پوسٹ کی گئی اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

بانیاس میں اس قتل عام کے بعد سیکڑوں سنی خاندان نقل مکانی کررہے ہیں اور صدر بشارالاسد کے حامی جنگجوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔

حکومت مخالف کارکنان نے ایک اور ویڈیو آن لائن پوسٹ کی ہے جس میں ایک ہی خاندان کی بیس لاشوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ان میں نو بچے بھی شامل ہیں۔آبزرویٹری نے نیشنل ڈیفنس فورسز(این ڈی ایف) پر ان افراد کی ہلاکتوں کا الزام عاید کیا ہے۔

این ڈی ایف صدر بشارالاسد کے حامی اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔آبزرویٹری نے جمعرات کو بائدہ میں پچاس افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔واضح رہے کہ قبل ازیں ساحلی شہر بانیاس اور بائدہ میں حکومت مخالف تحریک کے دوران بیسیوں افراد مارے جاچکے ہیں۔

درایں اثناء امریکا نے ساحلی گاؤں بائدہ میں اسی ہفتے شامی فوجیوں کے ہاتھوں ایک سو سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور شہری آبادی کے خلاف جبر وتشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں