جیش الحر کا حزب اللہ پر القصیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

لبنانی تنظیم شام میں مداخلت کے بھونڈے جواز پیش کررہی ہے:ترجمان جیش الحر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے لبنان کے جنگجو گروپ حزب اللہ پر وسطی شہر القصیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

جیش الحر کے ترجمان لوئی مقداد نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''برسرزمین موجود عینی شاہدین نے گندھک ملے خطرناک ہتھیار باغیوں کے خلاف استعمال ہونے کی تصدیق کی ہے۔ان رپورٹس کی تحقیقات کی جارہی ہے اور اس کے بعد کوئی باضابطہ بیان جاری کیا جائَے گا''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ''القصیر میں زہریلی گیسوں کے استعمال کے بعد لوگوں کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات ملی ہیں اور شہر کے متعدد مکینوں میں ایسی علامات پائی گئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں خطرناک گیس کا استعمال کیا گیا ہے''۔

العربیہ نے حزب اختلاف کے ذراِئع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور جیش الحر کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں نو افراد مارے گئے تھے۔

مگرحزب اللہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں سے لڑائی کے لیے جنگجو بھیجنے کا انکار کرتی چلی آرہی ہے۔تاہم شام میں باغی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں مارے جانے والے اپنے کارکنان کے باقاعدگی سے جنازے منعقد کرتی رہتی ہے۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ شام کے لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے سے تعلق رکھنے والے لبنانی اہل تشیع ہی باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔خود شیخ حسن نصراللہ یہ کہہ چکے ہیں کہ دمشق کے جنوب میں واقع سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کا تحفظ ان کا مذہبی فریضہ ہے۔

جیش الحر کے ترجمان نے ان کے اس بیان کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ سیدہ زینب کا مزار اور اہل تشیع صدیوں سے شام میں موجود چلے آرہے ہِیں اور انھیں اپنے تحفظ کے لیے حزب اللہ کی مدد کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''کسی نے بھی حزب اللہ ،ایران یا بشارالاسد کو مزارات کے تحفظ کے لیے ذمے داری نہیں سونپی تھی مگر حزب اللہ لبنانی جوانوں کو شامی تنازعے میں جھونکنے کے یہ بھونڈے جواز پیش کررہی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں