دمشق پر اسرائیلی راکٹ فائر کیے گئے: شامی ذرائع ابلاغ

"رواں ہفتے کے دوران یہ دوسرا اسرائیلی حملہ ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی دارالحکومت دمشق اتوار کو علی الصباح مبینہ اسرائیلی راکٹ حملوں سے گونج اٹھا۔ شامی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق اس حملے میں دارالحکومت کے نواحی علاقے جمرایا میں واقع ایک اہم عسکری ریسرچ مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ رواں ہفتے کے دوران شام پر اسرائیل کا دوسرا حملہ ہے۔ شامی ٹیلی وژن کے مطابق اسرائیلی حملوں کا مقصد دارالحکومت کے مشرقی علاقوں میں ’دہشت گردوں‘ کے گرد تنگ گھیراؤ کو ختم کروانا ہے۔ واضح رہے کہ شامی حکومت اپنے مسلح مخالفین کو مسلح دہشت گرد ٹہراتی ہے، جو گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ شامی ٹیلی وژن کے مطابق ان حملوں سے ’دہشت گرد گروپوں‘ کا مورال بلند کرنا مقصد ہے، جو شامی فوج کے حملوں سے مشکلات میں گھِرے ہوئے ہیں۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی 'سانا' کے مطابق ریسرچ سینٹر پر میزائل بھی داغے گئے ہیں۔

اسرائیل نے رواں برس جنوری میں اسی عسکری ریسرچ سینٹر پر کیے گئے حملے کو تسلیم کیا تھا، جسے شامی صدر بشار الاسد نے شام کو مزید غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا نام دیا تھا۔ حالیہ حملے کی تصدیق، لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی کر دی ہے۔ اس تنظیم نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ جمرایا اور الھاما کے لاضلاع میں واقع فوجی مرکز اور ملحقہ اسلحہ ڈپو پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔ دوحا میں قائم سیٹیلائٹ ٹی وی چینل الجزیرہ کے مطابق جمرایا نامی علاقے کے نواح میں ری پبلکن گارڈز کے چوتھے ڈویژن کے کیمپس بھی حملے کی زد میں آئے۔ یہ ڈویژن شامی صدر کی اہم وفا دار فورس ہے اور دارالحکومت کی سلامتی پر مامور ہے۔

اس حملے سے قبل امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہتھیاروں کے ایک ذخیرے کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جو مبینہ طور پر لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے لیے بھیجا جانا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے باضابطہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تاہم اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے لیے رکھے گئے جدید میزائلوں کے ذخیرے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ شام میں اسرائیلی فضائیہ کا گزشتہ چار ماہ میں اس طرز کا دوسرا حملہ تھا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے لیے شامی ساختہ زمین سے فضاء میں مار کرنے والے m600 میزائل فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ لبنان میں سفارتی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حملے میں وہ میزائل تباہ کیے گئے، جو روس نے شام کو فراہم کیے تھے اور جو دمشق کے ہوائی اڈے کے پاس رکھے گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق امریکی محکمہء دفاع، واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے اور تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس تازہ حملے سے متعلق اپنا مؤقف واضح نہیں کیا۔ شامی حکومت اندرون خانہ گزشتہ دو برس سے باغیوں سے لڑ رہی ہے، جنہیں عرب لیگ، ترکی اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس عرصے میں 70 ہزار سے زائد انسانوں کی جانیں خونریزی کی نظر ہوگئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں