.

گوگل سے فلسطین کوتسلیم کرنے کا اقدام واپس لینے کا مطالبہ

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کے لیے کوششوں پر منفی اثر کا واویلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کو سرچ انجن گوگل کی جانب سے اپنی پراڈکٹس میں ''فلسطینی علاقوں'' کے ہوم پیج میں تبدیلی اور ٹیگ لائن میں اس کو فلسطین لکھنے کا اقدام ہضم نہیں ہوپارہا ہے اور اس نے گوگل کے خلاف سفارتی مہم شروع کردی ہے۔

اسرائیل کے نائب وزیرخارجہ ایلکن نے سرچ انجن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لیری پیج کے نام سوموار کو اس ضمن میں ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ مذکورہ فیصلے سے ایک طرح سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

مسٹر ایلکن نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ''میری رائے میں اس طرح کا فیصلہ نہ صرف ایک غلطی ہے بلکہ اس سے میری حکومت کی جانب سے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے''۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ''گوگل نے دنیا میں لوگوں کے درمیان روابط کو فروغ دینے کے لیے بہت سی مثبت تبدیلیاں کی ہیں لیکن یہ فیصلہ اس طرح کے مقاصد کی منافی ہے اور اس سے فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے فاصلے پیدا ہوں گے''۔

صہیونی نائب وزیر خارجہ نے گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔انھیں انٹرنیٹ سرچ انجن کا یہ بے ضرر سا فیصلہ بھی قبول نہیں۔گوگل نے گذشتہ جمعہ فلسطین سے متعلق تبدیلی متعارف کرائی ہے اورگوگل کے لوگو کو فلسطین کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔اس کے نیچے عربی اور انگریزی لکھا ہے۔

گوگل کے ترجمان ناتھن ٹیلر نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم اپنی مصنوعات میں ''فلسطینی علاقوں'' کا نام ''فلسطین'' سے تبدیل کررہے ہیں۔ہم نے ممالک کے ناموں کو لکھتے وقت متعدد ذرائع اور حکام سے مشاورت کی ہے''۔

''اس معاملے میں ہم اقوام متحدہ ،آئی کین (انٹر نیشنل کارپوریشن برائے نام اور نمبرز) آئی ایس او (بین الاقوامی تنظیم برائے معیارات) اور دوسری بین الاقوام تنظیموں کی پیروی کررہے ہیں''۔ٹیلر کا مزید کہنا تھا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گذشتہ سال نومبر میں فلسطین کا درجہ بڑھا کر ''غیر رکن مبصر ریاست'' کردیا تھا۔اس طرح فلسطین کو اقوام متحدہ کے تحت بعض اداروں کی رکنیت بھی حاصل ہوگئی تھی اور اسے ایک طرح سے ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن امریکا اور اس کی بغل بچہ ریاست اسرائیل نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی تھی۔