.

اسرائیلی حملے میں بیسیوں شامی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

دمشق کے نواح میں اسرائیلی میزائل حملوں میں تین اہم فوجی تنصیبات تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کو دمشق کے نواح میں فضائی حملے میں تین اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں صدارتی محل کے نزدیک تعینات بیسیوں ایلیٹ فوجی مارے گئے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے شام کے فوجی اسپتال تشرین کے ایک ڈاکٹر کے حوالے سے لکھا ہے کہ جمرایا کے علاقے میں حملے میں کم سے کم ایک سو فوجی مارے گئے اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب لندن میں قائم شامی آبزوریٹری برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے شام کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور حملے میں بیالیس فوجی ہلاک اور بیسیوں زخمی یا لاپتا ہوگئے ہیں۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صہیونی فوج نے جن تین فوجی جگہوں کو نشانہ بنایا ہے،وہاں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ فوجی تعینات ہوں گے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ حملے کے وقت وہاں کل کتنے فوجی موجود تھے۔

شام نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ اسرائیل نے دارالحکومت دمشق کے نزدیک تین فوجی جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایک سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ایک فوجی تنصیب ،ایک اسلحہ ڈپو اور طیارہ شکن یونٹ پر حملے کیے تھے۔

شامی حکومت نے سرکاری طور پر اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔البتہ وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں،لوگ زخمی ہیں اور بڑی تباہی ہوئی ہے۔

ایک اسرائیلی ذریعے نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے لیے بھیجے گئے ہتھیاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ادھر ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک بریگیڈئیر جنرل مسعود جزائری کا کہنا ہے کہ شام میں اسرائیل نے جس اسلحے کو نشانہ بنایا ہے،وہ ایران سے نہیں بھیجا گیا تھا۔

انھوں نے پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ پر آج جاری کردہ بیان میں مغربی اور اسرائیلی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ شام میں ایران کے اسلحہ کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی حکومت کو ایران کی فوجی امداد کی ضرورت نہیں ہے اور اس قسم کی رپورٹس دونوں ممالک کے خلاف پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے اتوار کو علی الصباح دمشق کے نواح میں واقع ایک فوجی تحقیقاتی مرکز کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے کے بعد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔شام کے سرکاری ٹی وی کی اطلاع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر چھپن منٹ پر ریسرچ سنٹر پر میزائل داغے تھے۔

اس اسرائیلی حملے کے بعد شامی دارالحکومت کے نواح میں کم سے کم چالیس دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں اور یہ بھی غیرمصدقہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ شامی فوج نے اسرائیل کے ایک جنگی طیارے کو مارگرایا ہے۔