.

اقوام متحدہ کے چارامن فوجی شامی باغیوں کی ''حفاظتی تحویل'' میں!

یواین ترجمان نے گولان کے علاقے میں فلپائنی فوجیوں کے اغوا کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کے ایک گروپ ''یرموک شہداء بریگیڈ'' نے اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر تعینات اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کو ان کے تحفظ کے پیش نظر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

شامی باغیوں نے ان چاروں کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں انھوں نے اقوام متحدہ کے ہلکے نیلے رنگ کی جیکٹس پہن رکھی ہیں اور اس پر ''فلپائن'' لکھا ہوا ہے۔ یرموک شہداء بریگیڈ نے فیس بُک پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امن فوجیوں کو علاقے میں جاری لڑائی کے پیش نظر حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

شامی فوج کے خلاف محاذآراء اس جنگجو گروپ نے کہا ہے کہ ''یرموک شہداء بریگیڈ نے شام اور مقبوضہ گولان چوٹیوں کے درمیان واقع علاقے وادیٔ یرموک میں اقوام متحدہ کی فورسز کو محفوظ بنانے اور ان کے تحفظ کے لیے کارروائی کی ہے''۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج کی جانب سے علاقے میں گولہ باری سے امن دستوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا ہوگئے تھے۔اس کے پیش نظر جنگجوؤں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے انھیں علاقے سے نکال لیا ہے۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے علاقے میں اسدی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی تصدیق کی ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے محکمہ امن مشن کی خاتون ترجمان جوزفین گوریرو نے شام اور اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی چوٹیوں کے درمیان حد متارکہ جنگ (سیز فائر لائن) پر تعینات چار امن فوجیوں کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ''امن فوجیوں کو نامعلوم مسلح گروپ نے اغوا کیا ہے اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔وہ الجملہ کے علاقے میں گشت پر مامور تھے۔اسی علاقے سے مارچ میں شامی باغیوں نے اقوام متحدہ کے اکیس فوجی مبصرین کو اغوا کر لیا تھا''۔شامی باغیوں نے ان فوجیوں کو تین روز تک زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل اور شام کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے قریباً ایک ہزار فوجی مبصرین سہ 1974ء سے تعینات ہیں۔آسٹریلیا ،بھارت ،فلپائن ،مراکش اور مالدیپ سے تعلق رکھنے والے ان فوجیوں کے پاس ہلکے ہتھیار ہیں۔اقوام متحدہ نے چھے مارچ کو اکیس فلپائنی فوجیوں کے اغوا کے واقعے کے بعد امن دستوں کے لیے مزید بکتر بند اور ایمبولینس گاڑیاں اور دوسری سکیورٹی آلات بھیجے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور شام ٹیکنیکل طور پر حالت جنگ میں ہیں۔اسرائیل نے شام کے بارہ سو مربع کلومیٹر علاقے پر مشتمل گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کررکھا ہے۔اس علاقے کو اس نے 1967ء کی جنگ کے بعد ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے کبھی اس کے اس جارحانہ اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔