.

مصری کابینہ میں رد وبدل ، نو نئے وزراء شامل

ایف جے پی کے سنیئرعہدے دارعمرو دراج منصوبہ بندی کے وزیر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیر اعظم ہشام قندیل نے اپنی کابینہ میں رد وبدل کا اعلان کر دیا ہے اور اس میں نو نئے وزراء شامل کیے گئے ہیں۔اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی (ایف جے پی) کے ایک سنئیر عہدے دار عمرو دراج کو منصوبہ بندی کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔

عمرو دراج کو اشرف العربی کی جگہ منصوبہ بندی کی وزارت کا قلم دان سونپا گیا ہے۔سبکدوش وزیر نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ چار ارب اسّی کروڑ ڈالرز کے قرضے کے حصول کے لیے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔البتہ اس پیکج کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

اسلامی اقتصادیات کے ماہر ڈاکٹر فیاض عبدالمنعم کو ملک کا نیا وزیرخزانہ مقرر کیا گیا ہے۔انھوں نے جامعہ الازہر سے اسلامی معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ان کے پیش رو المرسی السید الحجازی بھی اسلامی مالیات کے ماہر تھے اور انھیں جنوری میں وزیرخزانہ بنایا گیا تھا۔

نئی کابینہ میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے دس سیاست دانوں کو شامل کیا گیا ہے۔سابقہ کابینہ میں آزادی اور انصاف پارٹی کے آٹھ وزراء شامل تھے۔ایف جے پی کے ایک اور لیڈر یحییٰ حامد کو سرمایہ کاری کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔

نئی کابینہ میں احمد سلیمان کو وزارت انصاف کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ان کے پیش رو احمد مکی گذشتہ ماہ اخوان اوراس کی اتحادی جماعتوں کے عدلیہ مخالف مظاہروں کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔داخلہ ،دفاع اور خارجہ امور کے وزراء کو تبدیل نہیں کیا گیا۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے گذشتہ ماہ کابینہ میں ردوبدل کا اعلان کیا تھا۔تاہم انھوں نے وزیراعظم ہشام قندیل کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا حالانکہ ان کے سیاسی مخالفین ان سے ملک میں اسی سال پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل ہشام قندیل کو ہٹانے اور کابینہ میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔

دوسروں کے علاوہ صدر مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون بھی ہشام قندیل کی قیادت میں کابینہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور وہ اس کو مختلف مواقع پر تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔اخوان کے سیاسی مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کی حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے اور خاص طور پر اس نے معیشت کی بحالی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔