شامی بحران کے حل کے لیے معاہدے سے قبل بشارالاسد اقتدار چھوڑیں: اپوزیشن

روس اور امریکا کی شامی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تجویز مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے ملک میں گذشتہ دو سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور بحران کے کسی سیاسی تصفیے سے قبل صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے اور امریکا اور روس کی جانب سے شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز مسترد کردی ہے۔

شامی قومی اتحاد نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ شامی عوام کی امنگوں کے مطابق ایک جمہوری ریاست کے قیام کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے لیکن ان کوششوں کا آغاز صدر بشارالاسد اور ان کے لاؤ لشکر کی رخصتی سے ہونا چاہیے''۔

حزب اختلاف کا یہ ردعمل امریکا اور روس کی نئی تجویز کے لیے دھچکا ہوسکتا ہے۔ان دونوں ممالک نے گذشتہ سال جون میں جنیوا میں شامی تنازعے کے حل کے لیے طے پائے بین الاقوامی معاہدے کی بنیاد پر نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

واضح رہے کہ جنیوا معاہدے میں بشارالاسد کی رخصتی کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا تھا جبکہ شامی حزب اختلاف صدر اسد کی رخصتی کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ دوسری جانب شامی حکومت کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ آیندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں کیا جانا چاہیے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی نے امریکا اور روس کے درمیان شامی بحران کے حل کے لیے نئی ڈیل کا خیر مقدم کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ایک ناخوش ملک سے متعلق ایک طویل عرصے کے بعد یہ ایک امید افزاء خبر ملی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ماسکو میں جاری کردہ بیانات بڑی اہمیت کے حامل اور پہلا قدم ہیں لیکن ابھی یہ پہلا قدم ہی ہیں اور یہ توقع کی جاسکتی ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے باقی تین رکن ممالک برطانیہ ،چین اور فرانس بھی اس سے اتفاق کریں گے''۔

وہ ماسکو میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے درمیان بات چیت میں شام سے متعلق طے پائے معاہدے پر تبصرہ کررہے تھے۔روسی وزیرخارجہ نے منگل کو نیوزکانفرنس میں کہا تھا کہ ہم شامی حکومت اور حزب اختلاف کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی تمام کاوشیں بروئے کار لائیں گے اور بحران کے سیاسی حل کے لیے فریقین کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

درایں اثناء برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے آیندہ جمعہ کو روس جانے کا اعلان کیا ہے جہاں وہ ساحلی مقام سوچی میں صدر ولادی میر پیوتن سے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں