مصر:''معرکۂ جمل'' کے ملزموں کی بریت کا فیصلہ برقرار

صدر محمد مرسی کی حکومت کو عدلیہ کی جانب سے ایک اور دھچکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف سال 2011ء کے اوائل میں احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین پر تشدد میں ملوث سابق عہدے داروں کی بریت سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل مسترد کردی۔

قبل ازیں قاہرہ کی فوجداری عدالت نے معرکۂ جمل میں ملوث تمام مدعاعلیہان کو بری کردیا تھا۔اس عدالتی فیصلے کے خلاف صدر محمد مرسی کی حکومت نے اپیل دائر کی تھی لیکن اعلیٰ عدالت نے بدھ کو اس اپیل کو مسترد کردیا ہے اور فوجداری عدالت کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔

فوجداری عدالت نے گذشتہ اکتوبر میں اس کیس کی طویل سماعت کے بعد چوبیس مدعاعلیہان کو ان کے خلاف مظاہرین پر تشدد سے متعلق عاید کردہ الزامات سے بری کردیا تھا۔ان میں حسنی مبارک دور کی پارلیمان کے اسپیکرز بھی شامل تھے۔

یادرہے کہ حسنی مبارک کے وفاداروں اور سکیورٹی حکام نے مظاہرین کی تحریک کو بزور بازو کچلنے کے لیے 2 اور 3 فروری 2011ء کو قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہوکر چڑھائی کردی تھی اور اس بنا پر اس لڑائی کو معرکۂ جمل کا نام دیا گیا تھا۔سابق صدر کے حامیوں کی اس وحشیانہ کارروائی کے بعد ان کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں تیزی آئی تھی اور چند ہی روز کے بعد 11 فروری کو ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

علیل حسنی مبارک کو بہ ذات خود ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے فوجداری عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور ان کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا تھا۔اب ان کے اور ان کے وزیرداخلہ حبیب العادلی خلاف آیندہ ہفتے سے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ واضح رہے کہ مظاہرین کی ہلاکتوں کے براہ راست ذمے دار پولیس اہلکاروں کو یا تو بری کردیا گیا تھا یا پھر انھیں ہلکی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

مصر کے اسلامی صدر محمد مرسی نے گذشتہ سال کے وسط میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث سابق عہدے داروں کو سزائیں دلانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور انھیں گذشتہ مہینوں کے دوران سابق بدعنوان اور عوامی انقلابی تحریک کے دوران مظاہرین پر تشدد کے ذمے دار سابق عہدے داروں اور سرکاری حکام کو سزائیں دلانے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

قاہرہ کی عدالت کے فیصلے سے ان کی حکومت کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے اور انھیں ایک مرتبہ پھر عدالتوں سے حسنی مبارک کے مصاحبین اور ان کے آلہ کار اہلکاروں کو سزائیں دلانے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ان پر پہلے ہی اعلیٰ عدلیہ میں مداخلت کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔اب ایک مرتبہ پھر مرسی حکومت اور عدلیہ کے درمیان نئی محاذآرائی جنم لینے کا اندیشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں