شامی فوج کا تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے پر دوبارہ قبضہ

جیش الحر کے مقامی کمانڈر کا اردن سے کمک ملنے میں ناکامی پر انخلاء کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے باغی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کے بعد تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے خربۃ غزالہ پر بدھ کو دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یہ قصبہ میدان حوران میں دمشق سے اردن کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔اطلاعات کے مطابق اردن میں مقیم شامی حزب اختلاف کی عسکری کونسل کی قیادت قصبے کے دفاع کے لیے باغی جنگجوؤں کو ہتھیار مہیا کرنے میں ناکام رہی تھی۔اب اس قصبے پر کنٹرول کے بعد صدر بشارالاسد کی وفادار فوج تجارتی راستے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر نے دوماہ قبل خربۃ غزالہ پر قبضے کے بعد شام اور اردن کے درمیان شاہراہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور یہاں سے شامی فوج کی آمد ورفت بند ہوگئی تھی۔جنوبی شہر درعا کی جانب بھی اسی قصبے سے شاہراہ جاتی ہے۔

جیش الحر کے قریباً ایک ہزار جنگجو اس قصبے میں سرکاری فوج کے خلاف برسرپیکار تھے۔بدھ کو جب انھیں اردن کی جانب سے کمک مہیا ہونے کی کوئی امید نہیں رہی تو انھوں نے قصبے کو خالی کردیا اور شامی فوج نے شمال اور مغرب کی جانب سے پیش قدمی شروع کردی۔

جیش الحر کے شہدائے خربۃ غزالہ بریگیڈ کے ایک کمانڈر ابو یعقوب نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں ایک ہزار جنگجوؤں کو واپس لاسکتا ہوں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ میرے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ ''میں نے باغیوں کو انخلاء کا حکم دینے سے قبل اردن میں فوجی کونسل کے سربراہ احمد نیمعاح سے رابطہ کیا تھا لیکن انھوں نے یہ جواب دیا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔اگر ہم یہ جنگ ہارے ہیں،تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی بہتری میں ہارے ہیں۔اب ہر کوئی احمد نیمعاح کا مخالف ہوچکا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں