.

النصرۃ محاذ نے اپنے سربراہ کے زخمی ہونے کی تردید کردی

شامی حکومت پر جنگجو گروپ سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار ایک بڑے جہادی گروپ النصرۃ محاذ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے نواح میں لڑائی کے دوران اس کے سربراہ ابو محمد الجولانی زخمی ہوگئے ہیں۔

النصرۃ کے ایک کمانڈر آلِ غریب المہاجر القحطانی نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ''پیارے بھائیو! یہ نوٹ فرمائیں،یہ جو بعض چینل شیخ الجولانی کے دمشق میں زخمی ہونے سے متعلق اطلاع دے رہے ہیں،یہ درست نہیں ہے۔الحمد للہ''۔

انھوں نے شامی حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ملک کے وسطی علاقے میں ان کی تنظیم کے ایک اور جنگجو کی موت سے متعلق جھوٹی خبر پھیلا رہی ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ''اگر قیادت زخمی ہوجائے یا قیادت کی موت واقع ہوجائے تو جہاد پھر بھی تاقیام قیامت جاری رہے گا لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ شیخ جولانی کے زخمی ہونے کی خبر غلط ہے''۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جنوبی صوبہ دمشق میں شیخ جولانی کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔آبزرویٹری شام میں موجود اپنے کارکنان ،وکلاء اور ڈاکٹروں کے نیٹ ورک کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کے بارے میں بیان جاری کرتی ہے اور اس نے اپنے بیان میں صرف یہ کہا تھا کہ شیخ جولانی کے پاؤًں میں زخم آیا ہے۔

واضح رہے کہ شیخ جولانی نے گذشتہ ماہ القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری سے اظہار وفاداری کا اعلان کیا تھا اور ان کے اس اعلان سے قبل ہی امریکا نے النصرۃ محاذ کو عراق میں القاعدہ کی شاخ سے تعلق کے الزام میں دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

النصرۃ محاذ شام میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔اس جنگجو گروپ نے شام میں متعدد خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے جس کی وجہ سے اس کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے جنگجو جدید ہتھیاروں سے لیس شامی فوج کا مردانہ وار مقابلہ کررہے ہیں اور انھوں نے شام کے شمالی علاقوں میں خاص طور پر اسدی فوج کے مقابلے میں جیش الحر کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں کی جرآت مندی اور ان کی ان کامیابیوں پر دادوتحسین کے ڈونگرے بھی برسائے جارہے ہیں۔