.

شام کی آیندہ اسرائیلی حملے کا فوری جواب دینے کی دھمکی

امریکا کا صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے اسرائیل کے کسی نئے حملے کا فوری جواب دینے کی دھمکی دی ہے اور امریکا کی جانب سے صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اسرائیلی طیاروں کے کسی نئے حملے کا فوری جواب دینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور اس کے لیے مزید ہدایات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ہمارا ردعمل بہت سخت اور اسرائیل کے لیے بہت تکلیف دہ ہوگا''۔

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گذشتہ جمعہ اور اتوار کو شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں فضائی حملوں میں تین اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں صدارتی محل کے نزدیک تعینات بیسیوں ایلیٹ فوجی مارے گئے تھے۔

اسرائیلی طیاروں نے ایک فوجی تنصیب ،ایک اسلحہ ڈپو اور طیارہ شکن یونٹ پر حملے کیے تھے۔صہیونی حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کے لیے بھیجے گئے ہتھیاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن شام نے اسرائیل کے اس موقف کو مسترد کردیا ہے۔

درایں اثناء شامی وزارت خارجہ نے امریکا اور روس کے درمیان بحران کے حل کے لیے گذشتہ سال جنیوا میں طے پائے چھے نکاتی معاہدے کی روشنی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے پر اتفاق کا خیرمقدم کیا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا یہ مطالبہ مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد تنازعے کے حل کے لیے اقتدار چھوڑ دیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بشارالاسد کے اقتدار کا فیصلہ کرنا شامی عوام کا کام ہے۔بیان میں روس کے شام سے متعلق موقف پر اس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے۔

شام کے نائب وزیرخارجہ نے عالمی برادری کی جانب سے دباؤ کے بعد ملک میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی ٹیم کے خیرمقدم کا بھی اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم بین کی مون کے مقرر کردہ وفد کا استقبال کرنے کو تیار ہیں اور اس کے لیے ہم ہمیشہ تیار رہے ہیں تاکہ وہ آئیں اور خان الاصل میں جو کچھ رونما ہوا تھا،اس کی تحقیقات کریں''۔وہ شمالی شہر حلب کے نزدیک واقع گاؤں کا حوالے دے رہا تھا جہاں شامی حکام نے باغی جنگجوؤں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔اس واقعے میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال صدر بشارالاسد کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔