.

مصر:شام پر اسرائیلی حملے کے خلاف اخوان المسلمون کا مظاہرہ

حزب النور کی مفتیِ اعظم فلسطین کی گرفتاری کے خلاف ریلی میں عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکمراں جماعت اخوان المسلمون نے شام پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں اور مقبوضہ بیت المقدس میں معروف فلسطینی عالم دین کی گرفتاری کے خلاف دارالحکومت قاہرہ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جبکہ سلفیوں کی جماعت حزب النور نے اس ریلی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

قاہرہ کی مشہور تاریخی دانش گاہ جامع الازہر کی مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد ریلی نکالی گئی۔ریلی کے شرکاء نے اسرائیل کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اسرائیل کی تباہی چاہتے ہیں۔

انھوں نے شام میں اسرائیل کے گذشتہ ہفتے کے دوران فضائی حملوں کی بھی مذمت کی۔ان حملوں میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے لیے بھیجے گئے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اخوان المسلمون کے زیراہتمام ریلی کے شرکاء نے مقبوضہ بیت المقدس میں مفتیٔ اعظم فلسطین علامہ محمد حسین کو حراست میں لیے جانے کے خلاف بھی سخت احتجاج کیا اور اسرائیلی حکام کے اس اقدام کی مذمت کی۔

دوسری جانب سخت گیر سلفیوں کی جماعت حزب النور نے اس ریلی میں شرکت نہیں کی اور جماعت کی قیادت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کی ریلیوں سے بیت المقدس آزاد نہیں ہوگا بلکہ مصری صدر محمد مرسی فلسطین کی آزادی، مالی اور افغانستان وغیرہ میں جہاد کا اعلان کریں کیونکہ یہ تمام مسلم علاقے ہیں۔

فروری 2011 ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے اخوان المسلمون نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف اس طرح کا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔اخوان ماضی میں اسرائیل کے ساتھ مصر کے امن معاہدے کی شدید مخالفت کرتی رہی ہے لیکن اخوان کے سابق لیڈر اور ملک کے موجودہ صدر محمد مرسی نے گذشتہ سال جون میں برسراقتدار آنے کے بعد اسرائیل کے بارے میں اپنی سابقہ جماعت کے برعکس نرم رویہ اختیار کیا ہے اور انھوں نے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی پاسداری کا بھی اعلان کیا تھا۔