شام میں اسد مخالف مسلح تحریک کے دوران 82 ہزار ہلاکتیں

خانہ جنگی کے نتیجے میں 14 لاکھ سے زیادہ شامی پڑوسی ممالک میں دربدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات میں مہلوکین کی تعداد بیاسی ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ دوسال سے شام میں جاری خانہ جنگی میں مارے گئے افراد کی نصف تعداد عام شہریوں پر مشتمل ہے۔

آبزرویٹری کے پاس شام میں مارے گئے 82257 افراد کا ریکارڈ موجود ہے۔ان میں 34473 عام شہری تھے اور ان میں بھی 4788 بچے اور3049 خواتین شامل ہیں۔صدر بشارالاسد کی فوج کے ساتھ لڑائی میں اس عرصے میں 16687 باغی جنگجو اور منحرف فوجی مارے گئے ہیں۔

صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت کو فرو کرتے ہوئے 16729 فوجی مارے گئے ہیں۔حکومت کی حامی شبیحہ (ملیشیا) کے بارہ ہزار سے زیادہ جنگجو باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں سے 2368 کی لاشیں ملی تھی مگر ان کی شناخت نہیں ہوئی تھی۔

بعض آزاد ذرائع ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ بتا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے شام میں جاری خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق خانہ جنگی کے نتیجے میں چودہ لاکھ سے زیادہ افراد اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں چلے گئے ہیں اور بیالیس لاکھ سے زیادہ اندرون ملک دربدر ہیں یا بے گھر ہوکر عارضی خیموں میں پناہ گزین ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں وہ دس ہزار حکومت مخالفین شامل نہیں جنھیں جیلوں یا حراستی مراکز میں قید کے دوران لاپتا کردیا گیا۔اس کے علاوہ اس وقت باغی جنگجوؤں کے زیر حراست شامی حکومت کے حامی ڈھائی ہزار افراد بھی اس تعداد میں شامل نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں