.

شام میں خانہ جنگی: ہلاکتوں پر نظر ثانی، 94 ہزار افراد مارے گئے

علوی فرقے کے کنٹرول والے علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک اور خانہ جنگی میں ہلاکتوں کی تعداد پر نظرثانی کی ہے اور کہا ہے کہ وہاں اب تک چورانوے ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

آبزرویٹری نے دو روز قبل ہی شام میں 82257 افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ ان کا ریکارڈ اس کے پاس موجود ہے۔آج منگل کو جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ اسے صدر بشارالاسد کے فرقے علویوں کے کنٹرول والے علاقوں طرطوس اور اللذاقیہ سے ہلاکتوں کے نئے اعداد وشمار موصول ہوئے ہیں اوراس کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد پر نظرثانی کی گئی ہے۔

اس تنظیم نے اتوار کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ گذشتہ دوسال سے شام میں جاری خانہ جنگی میں مارے گئے افراد کی نصف تعداد عام شہریوں پر مشتمل ہے۔آبزرویٹری کا اب کہنا ہے کہ اسے ملنے والی نئی معلومات کے مطابق علوی کمیونٹی میں ہلاکتوں کی تعداد پہلے سے موصول شدہ اعداد وشمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

آبزرویٹری کی دوروز پہلے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بیاسی ہزار مہلوکین میں 34473 عام شہری تھے اور ان میں بھی 4788 بچے اور3049 خواتین شامل ہیں۔صدر بشارالاسد کی فوج کے ساتھ لڑائی میں اس عرصے میں 16687 باغی جنگجو اور منحرف فوجی مارے گئے ہیں۔حکومت مخالف مسلح بغاوت کو فرو کرتے ہوئے 16729 فوجی مارے گئے ہیں۔حکومت کی حامی شبیحہ (ملیشیا) کے بارہ ہزار سے زیادہ جنگجو باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں سے 2368 لاشیں ملی تھی مگر ان کی شناخت نہیں ہوئی تھی۔