.

شیخ الازہر نے ٹی وی چینلوں پرمنافرت انگیز فتاویٰ کی مذمت کردی

ٹی وی چینلوں میں پیشہ وارانہ ذمے داریوں کا فقدان پایا جاتا ہے:تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے ٹی وی چینلوں پر سخت گیر اور منافرت انگیز فتووں کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ ٹی وی چینلوں میں اس ضمن میں پیشہ وارانہ ذمے داریوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔

وہ منگل کو دبئی میں منعقدہ عرب میڈیا فورم سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ خطے میں دسیوں ٹی وی چینلز اپنی نشریات پیش کررہے ہیں اور ان میں سے بعض انتہا پسندانہ فتوے نشر کردیتے ہیں جس سے منافرت پھیلتی ہے۔ایسے ٹی وی چینلوں میں پیشہ واریت کا فقدان پایا جاتا ہے''۔

شیخ احمد الطیب نے کہا کہ علاقائی میڈیا کے بارے میں ان کے لیے تشویش کی سب سے بڑی وجہ مضحکہ خیز فتاویٰ کا اجراء ہے اور یہ مذہب کے خوبصورت لباس پر بدترین دھبّہ ہیں۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں سخت گیر علمائے دین آئے دن متنازعہ فتاویٰ جاری کرتے رہتے ہیں۔مصر میں ایک عالم دین نے گذشتہ دنوں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے والی خواتین پر حملوں کو جائز قرار دے دیا تھا اور ایک نے حزب اختلاف کے لیڈروں کے قتل کے حق میں فتویٰ جاری کر دیا تھا۔

شیخ الازہر کے علاوہ مصر کے صدر محمد مرسی اور ان کے وزیراعظم ہشام قندیل اس طرح کے انتہا پسندانہ فتووں کی مذمت کرچکے ہیں۔شیخ الازہر نے اپنے تقریر میں کہا کہ اس طرح کے فتاویٰ کے نشر ہونے سے نفرت پھیلتی اور انتشار کے بیج بوئے جاتے ہیں اور اس سے اسلامی اور عرب سرزمین کو نقصان پہنچے گا۔

انھوں نے عرب میڈیا پر زوردیا کہ وہ ان فتاویٰ سے پیدا ہونے والے منفی تاثر کو زائل کرے۔ان کے بہ قول''عرب میڈیا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تصویر کو واضح کرے اور عرب شناخت کا احترام کرے کیونکہ اس کو مسخ کیا جارہا ہے''۔

ان کے بعد عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے عرب میڈیا فورم سے خطاب کیا۔انھوں نے اسلام کی درست تفہیم کے فروغ کے لیے شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب کے کردار کو سراہا اور کہا کہ عرب شناخت کی مسخ شدہ تصویر پیش کرنے سے اسلامو فوبیا کے فروغ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے اور عرب بہار اظہار رائے کی آزادی کے ضمن میں دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو اختیار کرنے کے لیے ضروری تھی''۔