.

حلب میں مرکزی جیل کے باہر شامی فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی

باغی جنگجوؤں کے شمالی شہر کی مرکزی جیل کے باہر دو کار بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب سے یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ وہاں کی باغی جنگجوؤں نے مرکزی جیل کے داخلی دروازے کے باہر دو کار بم دھماکے کیے ہیں اور اس کے بعد ان کی شامی فوج کے ساتھ شدید لڑائی ہورہی ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ حلب کی مرکزی جیل کی دیواروں کے باہر بدھ کی صبح یکے بعد دو کار بم دھماکے ہوئے ہیں اور یہ دھماکے جیل پر باغیوں کے حملے کا حصہ ہیں۔ان کے بہ قول جیل کے ارد گرد صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی تھی۔فوری طور پر بم دھماکوں اور جھڑپوں میں ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔

حلب کے نواح میں واقع اس جیل میں اس وقت کم سے کم چار ہزار شامی قید ہیں۔ان میں اسلامی جنگجو اور عام جرائم پیشہ افراد شامل ہیں۔ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ جیل کا بڑا حصہ باغیوں کے کنٹرول میں ہے اور وہاں ڈھائی سو کے لگ بھگ افراد صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے جرم میں قید ہیں۔

ادھر شام کے شمال مغربی صوبے ادلب اور جنوبی صوبے درعا میں بھی باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔