.

دمشق کا عرب قرارداد پر عملدرآمد سے انکار: بشار الجعفری

یو این میں شامی مندوب کی قطری قرارداد پر شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں شامی مندوب بشار الجعفری نے کہا ہے دمشق حکومت شامی بحران کے حل کی خاطرعرب لائحہ عمل کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ الجعفری کے بہ قول عرب منصوبہ ناقابل عمل ہے۔

انہوں نے دوستان شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کے خلاف ووٹ دیں۔ عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ بحران مزید جاری رہا تو ان کا ملک تباہی سے دوچار ہو کر تقسیم ہو سکتا ہے۔ بشار الجعفری نے اپنی تقریر میں شامی حکومت مخالفین کی حمایت کرنے والے ملکوں پر شدید تنقید کی۔

شامی مندوب کے خیالات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب آج کسی وقت جنرل اسمبلی عرب گروپ کی طرف سے شامی صورتحال کے بارے میں ایک قراردار پر بحث کرنے والی ہے۔ قرارداد کے محرک ممالک کو توقع ہے کہ ان کی کاوش تھوڑی اکثریت سے قبول کر لی جائے گی۔ العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسی حوالے سے گزشتہ برس اگست میں پیش کردہ قرارداد 133 ملکوں کی حمایت سے منظوری ہو گئی تھی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے اپوزیشن پر مشتمل شامی نیشنل الائنس کو ملک میں سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک پارٹی تسلیم کیا جائے۔

بشار الاسد حکومت کے گہرے دوست اور شام کے دیرینہ حلیف قطر اور دیگر عرب ملکوں کی جانب سے تیارکردہ قرارداد کے نفس مضمون کے سخت خلاف ہیں۔ قرارداد کا مسودہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ قرارداد کو اسی موضوع پر گزشتہ برس پیش کردہ قرارداد کے مقابلے میں کم پذیرائی اور ووٹ ملیں گے۔ یاد رہے کہ یو

این جنرل اسمبلی میں کسی ملک کے پاس ویٹو کا حق نہیں ہے۔
بدھ کے روز یو این میں قطری قرارداد پر بحث کے ساتھ ساتھ یورپی حکومتیں اور امریکا شامی اپوزیشن کے جنگجووں کو مسلح کرنے کے مضمرات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔