.

ہزاروں فلسطینیوں کی مہاجرت کے 65 سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرے

اسرائیلی قبضے کے خلاف مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب سرزمین پر صہیونی ریاست کے قیام اور وہاں سے ہزاروں مقامی لوگوں کے بے گھر ہونے کے پینسٹھ سال مکمل ہونے پر دریائے اردن کے مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے مظاہرے کیے ہیں اور ان کی اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی ریاست کے 14مئی 1948ء کو قیام کے وقت مسلح یہودیوں نے ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور آبائی علاقوں سے زبردستی نکال باہر کیا تھا اور ان کی زمینوں اور مکانوں پر قبضہ کرلیا تھا۔فلسطینی اس کو نکبہ( تباہی) کا نام دیتے ہیں اور ہر سال اس کی یاد میں اور اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔

مغربی کنارے کے شہروں الخلیل اور رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مظاہرے کیے۔ انھوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کے زیر قبضہ آنے والے دیہات اور قصبوں کے نام درج تھے۔بے گھر فلسطینیوں نے اپنے پرانے گھروں کی چابیاں بھی اٹھا رکھی تھیں۔

یادرہے کہ 1948ء کی جنگ میں مقامی عرب اور ہمسایہ عرب ریاستوں کی فوجیں مسلح یہودیوں کو فلسطینی سرزمین میں بہ زور آباد ہونے سے روکنے میں ناکام رہی تھیں اور وہ تب برطانوی نوآبادی کے کنٹرول میں فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کرکے آباد ہوتے رہے تھے۔

مسلح یہودیوں نے اس جنگ میں ہزاروں عربوں کو ان کے آبائی گھروں اور علاقوں سے بے دخل کرکے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا تھا۔بعد کے برسوں میں اسرائیل نے ان فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں میں واپس نہیں آنے دیا۔اس وقت وہ ہمسایہ ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور تب سے خیمہ بستیوں یا گنجان آباد پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔

اسی ہفتے فلسطینیوں کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق تریپن لاکھ فلسطینی اقوام متحدہ کے پاس رجسٹرڈ مہاجرین ہیں۔وہ شام، لبنان، اردن ،مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہ رہے ہِیں اوران میں صرف اردن میں مقیم فلسطینیوں کو وہاں کی شہریت کا حق دیا گیا ہے۔دوسرے ممالک میں مقیم فلسطینیوں کوروزگار اور دیگر بنیادی سہولتیں بھی حاصل نہیں ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شام اور عراق میں جاری فرقہ وارانہ تنازعات سے وہاں مقیم فلسطینیوں کے لیے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل انھیں قبول کرنے سے انکاری ہے جس کی وجہ سے تنازعے کے منصفانہ تصفیے اور امن عمل کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی کی حکمراں اسلامی جماعت حماس کا کہنا ہے کہ ''ہماری سرزمین برائے فروخت یا سودے بازی کے لیے نہیں ہے اور اگر تنازعے کے کسی بھی حل یا اقدام میں ہمارے واپسی کے حق کو تسلیم نہ کیا گیا تو ہمارے لوگ اس کو مسترد کردیں گے۔ہم اپنے حق کے حصول کے لیے مزاحمت کو تمام شکلوں کے ساتھ اور خاص طور پر مسلح مزاحمت کو جاری رکھیں گے''۔