الرقہ میں شامی فورسز کے مخالفین پرتشدد کے شواہد منظرعام پر آ گئے

سکیورٹی فورسز کے زیراستعمال عمارتوں میں شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا: ایچ آر ڈبلیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام کے شمالی شہر الرقہ میں صدر بشارالاسد کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حکومت مخالفین پر تشدد کے نئے ثبوت منظرعام پر آئے ہیں۔اس شہر پر مارچ میں باغی جنگجوؤں نے لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے وہاں سکیورٹی فورسز کے زیر استعمال عمارتوں سے تشدد کے لیے استعمال ہونے والے آلات برآمد کیے ہیں اور انھیں ایسی دستاویزات بھی ملی ہیں جن سے شامی فورسز کے شہریوں سے انسانیت سوز سلوک کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ(ایچ آر ڈبلیو) کے محققین کی ٹیم نے اپریل میں الرقہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں حکومت مخالفین پر تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت جمع کیے تھے۔

ایچ آر ڈبلیو نے جمعہ کو الرقہ میں شامی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں سے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے جس میں تنظیم کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر ندیم حورے نے بتایا ہے کہ ''سرکاری عمارتوں سے ملنے والی دستاویزات ،عقوبت خانوں ،تفتیشی مراکز اور مختلف آلات سے تشدد کا شکار ہونے والے سابق قیدیوں کے بیانات کی تصدیق ہوئی ہے''۔

الرقہ میں شامی فورسز کے تشدد کا شکار ہونے والے سابق قیدیوں نے بتایا کہ انھیں مکمل طور پر قابو کرنے کے لیے ایک ''پروازی قالین'' استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے ذریعے قیدی کو ایک بورڈ کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا۔اس کی ٹانگیں اور بازو مکمل طور پر کس دیے جاتے اور وہ اس حالت میں ہرگز بھی اپنا دفاع نہیں کرسکتا تھا۔بعض صورتوں میں گارڈز یا سکیورٹی اہلکار سابق قیدیوں کو ٹانگوں سے کھینچتے یا بورڈ کو لپیٹ دیتے تھے،اس طرح قیدی کی ٹانگیں اس کے چہرے کے ساتھ لگ جاتی تھیں''۔

ایچ آر ڈبلیو کی ایک محققہ لیما فکیہہ کا کہنا ہے کہ ''ان کی تنظیم نے شام میں تشدد کا شکار ہونے والے لاتعداد افراد کے انٹرویوز کیے تھے لیکن تشدد کے مراکز کو دیکھ کر حقیقی صورت حال کا درست طور پر اندازہ ہوا ہے۔ہم یہ بات جانتے ہیں کہ اس وقت بھی لوگ زیر حراست ہیں اور ان پر تشدد کے حربے آزمائے جارہے ہیں''۔

احمد نام کے ایک چوبیس سالہ شامی نے ایچ آر ڈبلیو کو بتایا کہ اسے اور اس کے بھائی کو سکیورٹی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔اس کے بھائی پر بجلی کے ساتھ تین سے چار گھنٹے تک تشدد کیا گیا اور اس کے بعد اسے تنہائی کی ایک کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا۔

الرقہ میں حزب اختلاف کی شہری کونسل کے سربراہ عبداللہ خلیل نے بھی تنظیم کے محققین کو اپنا بیان قلم بند کرایا۔انھیں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء کے وسط میں عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد یکم مئی کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔انھیں بعد میں دوران حراست سکیورٹی کی سترہ مختلف شاخوں کے حوالے کیا گیا تھا۔

ہیومن رائٹس واچ نے شامی حزب اختلاف سے کہا ہے کہ وہ الرقہ میں صدر بشارالاسد کی فورسز کے شہریوں پر تشدد کے شواہد کو مٹائیں نہیں بلکہ انھیں محفوظ رکھیں کیونکہ اگر انھیں ضائع یا تباہ کردیا گیا تو انسانیت سوز جرائم میں ملوث اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔

واضح رہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ سال جولائی میں شام میں انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اکاسی صفحات کو محیط ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں شام بھر میں ستائیس حراستی مراکز کا تذکرہ کیا گیا تھا۔اس میں مارچ 2011ء کے بعد زیرزمین جیلوں میں قیدیوں پر تشدد ، لوگوں کو بہ جبرغائب کرنے اوران کی غیر قانونی پکڑ دھکڑ کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں تشدد کے جو طریقے بیان کیے گئے تھے،ان کے مطابق قیدیوں کو طویل وقت کے لیے سخت تناؤ کی حالت میں بیٹھنے کوکہا جاتا تھااور اس دوران اکثر خاص آلات بھی استعمال کیے جاتے تھے،قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے دیے جاتے،ان پر بیٹریوں کا تیزاب ڈالا جاتا ،جنسی طور پر مجرمانہ حملے کیے جاتے اور ان کی تحقیر کی جاتی اور ان کی انگلیوں کے ناخن کاٹ دیے جاتے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کو سابق قیدیوں نے بتایا کہ حراستی مراکز میں گنجائش سے زیادہ افراد کو قید رکھا جاتا، انھیں ان کی ضرورت کے مطابق خوراک نہ دی جاتی ،انھیں بھوکا رکھا جاتا اور طبی امداد دینے سے بھی عام طور پر انکار کردیا جاتا۔ ان میں بہت سے افراد نے بتایا کہ انھوں نے قیدیوں کو حکام کے تشدد سے مرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔تنظیم کا کہنا تھا کہ شام کی چار خفیہ ایجنسیوں (مخابرات) کے زیراہتمام مذکورہ ستائیس حراستی مراکز کے علاوہ بھی حکومت مخالفین کو اسٹیڈیمز ،فوجی اڈوں ،اسکولوں اور اسپتالوں میں قید رکھا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں