مشتعل مصری پولیس اہلکاروں نے رفح بارڈر کراسنگ بند کردی

صدر مرسی سے اغوا کار اسلامی جنگجوؤں کے ساتھیوں کو رہا کرنے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے پولیس اہلکاروں نے سات سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے بعد احتجاج کے طور پر غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کو احتجاجاً بند کردیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ پولیس نے جمعہ کو سرحدی گذرگاہ کے دروازے بند کردیے ہیں اور وہاں داخلی راستوں پر خار دار تار لگادیے ہیں۔اس کے بعد رفح کے دونوں جانب سیکڑوں فلسطینی پھنس کررہ گئے ہیں۔ غزہ کی حکمراں حماس کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں رفح بارڈر کراسنگ کی بندش کی تصدیق کی ہے۔

مصر کے ایک سکیورٹی عہدے دار نے کہا ہے کہ سرحدی محافظ اپنے ساتھیوں کی بازیابی تک سرحدی گذرگاہ کو بند رکھیں گے۔ان کے مطابق اغوا کاروں اور حکام کے درمیان سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے بات چیت جاری ہے۔

مصری میڈیا کی اطلاع کے مطابق اسلامی جنگجوؤں نے جمعرات کو سیناء کے علاقے میں ایک منی بس میں سوار تین پولیس اہلکاروں اور چار فوجیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا۔ان میں سے تین اہلکار رفح بارڈر کراسنگ پر تعینات تھے۔مصر کی سکیورٹی سروسز کے حکام جزیرہ نما سیناء کے بدّوؤں کے ذریعے اغوا کاروں سے سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔

اغوا کاروں نے سکیورٹی اہلکاروں کے بدلے میں مصری جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق رفح میں تعینات پولیس اہلکاروں نے صدر محمد مرسی سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے ساتھیوں کی بازیابی کے لیے جنگجوؤں کو رہا کردیں۔عینی شاہدین نے مینا کو بتایا ہے کہ حکام نے شمالی سیناء میں اس بحران کے حل تک فوجیوں کی نقل وحرکت محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جزیرہ نماء سینا میں لاقانونیت عام ہے اور اغوا کی وارداتوں کے علاوہ بعض جنگجو گروپ اسرائیل کی جانب یہاں سے راکٹ بھی فائر کرچکے ہیں۔اگست 2011ء میں سیناء سے مسلح افراد نے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں داخل ہوکر حملے کیے تھے جن میں آٹھ اسرائیلی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں