.

القصیر گھات کارروائی میں حزب اللہ کے 10 جنگجو ہلاک

علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے گھمسان کی جنگ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی شہر حمص کے القصیر ریجن میں حزب اللہ اور جیش الحر کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔ جیش الحر کی 112 بٹالین نے ایک کامیاب گھات کارروائی میں حزب اللہ کے دس ارکان ہلاک کر دیئے۔

القصیر کے علاقے میں سرکاری فوج اور جیش الحر کے درمیان لڑائی پہلے جیسی نہیں رہی کیونکہ اس میں شامی فوج کے شانہ بشانہ ایک تیسرا فریق حزب اللہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ حزب اللہ، سرکاری فوج کے ساتھ ملکر جیش الحر کے زیر تسلط جانے والے شہروں اور مقامات کو وار گزار کرانے میں مصروف ہے۔

'العربیہ' ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق القصیر میں دریائے العاصی کے کنارے جیش الحر اور سرکاری فوج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں حزب اللہ کے کم سے کم 10 فوجی مارے گئے جبکہ دسیوں دوسرے القصیر کے علاقے بساتین میں دراندازی کی کوشش کے دوران زخمی ہوئے۔

جیش الحر کی 112 بٹالین نے دریائے العاصی پر ایک گھات نصب کر رکھی تھی جس کی زد میں آ کر حزب اللہ کے فوجی ہلاک ہوئے۔ متعدد جنگجوؤں کی نعشیں بری طرح مسخ ہوئیں۔

جیش الحر کے انقلابی جنگجوؤں کے مطابق حزب اللہ کے فوجی القصیر میں جان بوجھ کر جنگ کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لڑنے والوں کی توجہ ایک محاذ پر مرکوز نہ رہے، تاہم جیش الحر، حزب اللہ کی یہ سازش بھانپ چکے ہیں اور اپنی حکمت علمی تبدیل کر کے دشمن کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔

حزب اللہ کے جنگجوؤں کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت رونما ہوا ہے کہ جب کویتی اخبار 'الرائے' کے مطابق شام کی سرکاری فوج محاصرہ زدہ القصیر شہر پر سب سے زیادہ شدید زمینی اور فضائی حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ حملہ کل کسی وقت کر دیا جائے۔

شام کی سرکاری فوج کے ایک اعلی افسر نے 'الرائے' کو بتایا کہ ان کے دستے القصیر پر حملے کا آغاز عدیم النظیر شدید گولا باری سے کریں گے۔ اس گولا باری کے دوران شامی فضائیہ بھی استعمال کی جائے گی۔ فضائی حملے بلا تفریق کئے جائیں گے۔