.

"حزب اللہ شام میں مداخلت کے لئے مذہب کا سہارا لے رہا ہے"

لبنان کے شیعہ رہنما کی 'العربیہ' سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ شام میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے مذہب کا استعمال کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار لبنان ہی کے ایک سرکردہ شیعہ عالم علی الامین نے 'العربیہ' ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

علی الامین جنوبی لبنان کے شہر طائر اور جبل ایمل کے سابق مفتی ہیں۔ انہوں نے حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انہوں نے اسلام کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی سیدہ زینب کے مزار کے تحفظ کی خاطر شیعوں کو متحد کرنے پر زور دیا تھا۔ سیدہ زینب کا مزار اہل تشیع کے ہاں انتہائی متبرک مقام جانا جاتا ہے۔

الشیخ علی الامین کا کہنا تھا کہ مزار کا دفاع شام میں مداخلت کا قانونی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا شیعہ جہاد اپنے گھر سے شروع کیا جائے اس کے لئے جنگ سے تباہ حال ہمسایہ ملک کا انتخاب قطعی طور پر درست چوائس نہیں ہے۔ "ہمارا جہاد لبنان میں ہے اور وہ ہمیں قومی اتحاد کی صورت میں اپنے ملک کی تعمیر کر کے کرنا ہے۔"

دو سال سے جاری شامی بحران میں ابتک اسی ہزار نفوس زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ حالیہ خانہ جنگی کی ابتدا بشار الاسد کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے ہوئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آتی گئی۔

لبنان کے پڑوس میں جاری تنازعے کی وجہ سے لبنان بشار الاسد نواز اور مخالفین میں بٹ چکا ہے۔ یہ تقسیم زیادہ تر ملک کے سنی اور شیعہ مسلکی شہریوں میں دیکھی جا رہی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شامی باغیوں کے خلاف برسرپیکار سرکاری فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی لبنانی سرحد کے قریب شیعہ دیہات میں ہو رہی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں حسن نصر اللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا گروپ ہمسایہ ملک میں اہم طور پر شرکت کا خواہاں ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ شام کے دوست دمشق میں اپنے دوستوں کی حکومت گرنے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شام کے علاقائی دوست سے امریکا، اسرائیل اور 'تکفیری' گروپوں کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے۔ تکفیری گروپوں سے ان کی مراد وہ سنی مسلمان ہیں کہ جو بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

درایں اثنا لبنان کے سلفیوں نے شامی عوام کی بشار الاسد کے خلاف جدوجہد میں عالمی برادری کی سستی پر انتہائی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ لبنانی سلفیوں کے بیان میں اس وقت تیزی آئی کہ جب انہوں نے دمشق حکومت کے خلاف شام میں جہاد کی کال دی۔ علی الامین نے سلفیوں کی جانب سے جہاد کی اپیل کو 'فرقہ واریت' سے تعبیر کیا ہے۔