اوباما یا کیری کی شرطوں پر مستعفی ہونے والا نہیں: بشار الاسد

"شام میں موجود حزب اللہ کے ارکان موجود ہیں تاہم وہ جنگجو نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے صدر بشار الاسد نے ایک مرتبہ پھر امریکا اور مغربی دنیا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات کے باوجود وہ آئندہ انتخابات سے پہلے مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

ارجنٹائن کے اخبار 'کلارین' کو انٹرویو دیتے ہوئے بشار الاسد کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بات معلوم نہیں کہ جان کیری یا کسی اور مغربی عہدیدار کو شامی عوام کی ترجمانی کا حق ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں صدارتی انتخابات اگلے برس چین اور روس جیسے 'دوست ملکوں' کے مبصرین کی موجودگی میں ہوں گے۔

ایک دوسری پیش رفت میں بشار الاسد نے شام میں ایران اور حزب اللہ کے ارکان کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ شام میں جنگ کے لئے نہیں آئے بلکہ یہ بحران کے آغاز سے قبل ہی شام کے مختلف علاقوں میں مقیم تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی فوج نے دمشق میں کیمیاوی ہتھیار استعمال نہیں کئے۔ ایسا اسلحہ استعمال ہوتا تو اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں رونما ہوتیں جنہیں چھپانا ممکن نہ ہوتا۔ انہوں نے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے کہ شامی بحران کے آغاز سے ابتک ملک میں ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ شامی فوج کو نئے روسی اسلحے سے لیس کیا جا رہا ہے۔

بشار الاسد نے امریکا اور روس کی طرف سے جنیوا میں بلائی جانے والے امن کانفرنس کا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے باغیوں کے ساتھ مذاکرات کو ایک مرتبہ پھر سے مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں