صدر مرسی سے سیناء میں اغوا کاروں کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ

مذاکرات میں ثالث کار مقامی عمائدین کا طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری فوج نے صدر محمد مرسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جزیرہ نما سیناء کے شہر العریش میں سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دیں۔

مصر کے روزنامے المصری الیوم نے اپنی اتوار کی اشاعت میں فوج کی جانب سے اغواکاروں کے خلاف کارروائی کی اجازت طلب کرنے کی اطلاع دی ہے۔گذشتہ دوروز سے جاری کوششوں کے باوجود چھے یرغمالی سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

سکیورٹی حکام اور اغوا کاروں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مقامی عمائدین نے صدر محمد مرسی پر زوردیا ہے کہ وہ کسی بھی خونریز کارروائی سے گریز کریں کیونکہ اس طرح صورت حال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

مصری پولیس نے چھے سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے ایک روز بعد جمعہ کو غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کو احتجاجاً بند کردیا تھا۔مصری پولیس نے اتوار کو رفح میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے اسرائیل کے ساتھ واقع ایک تجارتی گذرگاہ کو بھی بند کردیا ہے۔

مصر کے ایک سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ سرحدی محافظ اپنے ساتھیوں کی بازیابی تک تجارتی گذرگاہ کو بند رکھیں گے۔ان کے مطابق اغوا کاروں اور حکام کے درمیان مقامی عمائدین کی ثالثی میں سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔

اسلامی جنگجوؤں نے جمعرات کو سیناء کے علاقے میں ایک منی بس میں سوار تین پولیس اہلکاروں اور تین فوجیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا۔ان میں سے تین اہلکار رفح بارڈر کراسنگ پر تعینات تھے۔پہلے یرغمالی اہلکاروں کی تعداد سات بتائی گئی تھی۔اب یہ تعداد چھے کردی گئی ہے۔

اغوا کاروں سکیورٹی اہلکاروں کے بدلے میں مصری جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے ایک جنگجو پر پولیس کے تشدد کی بھی شکایت کی ہے جس کے بعد اس جنگجو کو علاقے سے کسی اور جیل میں منتقل کردیا گیا ہے اور تشدد کے ذمے دار پولیس اہلکار سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں