شامی فوج القصیر میں داخل،فضائی حملوں میں 40 افراد ہلاک

فوج کا وحشیانہ گولہ باری کے بعد بلدیہ سمیت متعدد عمارتوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج باغیوں کے زیر قبضہ القصیر میں داخل ہوگئی ہے اوراس نے شہر کے مرکزی چوک اور اس کے نواح میں واقع بلدیہ کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ سرکاری فوج کے فضائی حملوں میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ فوج اتوار کو باغیوں کے زیر قبضہ القصیر کے وسط تک پہنچ گئی ہے اور اس نے بلدیہ کے علاوہ اس کے نواح میں واقع متعدد عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے القصیر میں باغی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان لڑائی میں سولہ افرادکی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

شامی فوج نے شہر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں اور شدید گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔شامی فوج نے گذشتہ کئی ہفتوں سے القصیر کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہ وہاں باغیوں سے قبضہ واپس لینے کے لیے توپخانے کے علاوہ فضائی قوت کا بھی استعمال کررہی ہے۔

شامی جنرل انقلاب کمیشن نے بھی شہر پر سرکاری فوج کی شدید گولہ باری کی اطلاع دی ہے اور برسرزمین اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آج علی الصباح شامی فوج کی توپخانے سے شدید گولہ باری سے شہر میں بیسیوں مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور ان سے آگ کے شعلے بھی بلند ہوتے دیکھے گئے۔

وسطی صوبہ حمص میں واقع القصیر میں گذشتہ کئی روز سے شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور وہاں شامی فوج کی مدد کے لیے حزب اللہ کے جنگجو بھی موجود ہیں۔یہ شہر دارالحکومت دمشق سے شامی ساحل کی جانب جانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔ حزب اختلاف کے کارکنان حزب اللہ پرمتعدد مرتبہ یہ الزام عاید کرچکے ہیں کہ اس کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف القصیر میں لڑرہے ہیں۔تاہم حزب اللہ ان الزامات کی تردید کرتی چلی آرہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں