.

بغداد اور بصرہ میں کار بم دھماکے،43 افراد ہلاک

مغربی صوبہ الانبار میں مسلح افراد کے حملوں میں 24 پولیس اہلکار مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہر بصرہ میں کار بم دھماکوں میں تینتالیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ان دونوں شہروں میں اہل تشیع کی آبادی والے علاقوں کو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔جنوبی شہر بصرہ میں سوموار کو دوکار بم دھماکے ہوئے ہیں۔ان میں پہلے دھماکے میں نو افراد مارے گئے۔دوسرا کار بم دھماکا ایک بس ٹرمینل میں ہوا اور اس واقعے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔

دارالحکومت بغداد میں اہل تشیع کی آبادی والے مشرقی علاقے کمالیہ میں حملہ آوروں نے ایک مصروف بازار میں بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دارالحکومت کے شیعہ آبادی والے چار علاقوں علام ،دیالا پل ،الشرطہ ،شعلہ اور صدر سٹی میں یک بعد دیگرے بم دھماکوں میں بائِیس افراد مارے گئے ہیں۔فوری طور پر کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

عراق میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان حملوں میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں نے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو شمالی شہر بعقوبہ میں اہل سنت کی ایک مسجد کے باہر دو بم دھماکوں اور جنوبی شہر میدان میں ایک جنازے پر بم حملے میں انچاس افراد ہلاک اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

درایں اثناء پولیس اور ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ مغربی صوبے الانبار میں اتوار کی رات مسلح افراد کے پولیس اہلکاروں کے اغوا کے لیے تھانوں پر حملوں میں چوبیس پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

مسلح افراد ان پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور ان کی بازیابی کے لیے چھاپہ مار کارروائی کے دوران بارہ یرغمالی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے جبکہ مسلح افراد کے دو پولیس اسٹیشنوں پر حملوں میں بارہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ شمالی شہر کرکوک کے نزدیک واقع قصبے حوائجہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے اہل سنت مظاہرین پر خونیں کریک ڈاؤن کے بعد سے ملک میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہواہے۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے مذہبی عدم رواداری کو ملک میں تشدد کے حالیہ واقعات کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ''خونریزی فرقہ وارانہ منافرت کا نتیجہ ہے اوریہ جرائم فرقہ وارانہ ذہنیت کا قدرتی نتیجہ ہیں''۔