.

تہران حکومت پر صدارتی انتخاب سے قبل انٹرنیٹ بند کرنے کا الزام

حکومت 2009ء کے صدارتی انتخاب کی تاریخ دہرانا چاہتی ہے: صارفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جیسے جیسے صدارتی انتخاب کا وقت قریب آ رہا ہے اتنی ہی تیزی سے انٹرنیٹ کے صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے کی وجہ سے متعدد ویب سائٹس کا کھولنا ناممکن ہوگیا ہے۔

صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ صدارتی انتخابات سے چند ہفتے قبل حکومت سماجی روابط اور نیوز ویب سائٹ تک رسائی کی آزادی سلب کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشتہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی حکام 2009ء میں شروع ہونے والے 'سبز انقلاب' کے خلاف اپنے جارحانہ اقدامات کی کہانی دوہرا رہے ہیں۔ اس وقت اس انقلابی تحریک کا بنیادی محرک انٹرنیٹ ہی تھا۔

سال 2009ء میں گرین موومنٹ منظم کرنے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ تحریک صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیا تھا۔ ایران کی تاریخ میں پہلی بار کسی انتخابات کے بعد اس قدر بڑے پیمانے پر غم و غصے کا اظہار اور احتجاجی مظاہرے نکالے گئے تھے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران میں ساڑھے چار کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جس کے بعد ایران مشرق وسطی میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ملک بن گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی روزنامے ’’وال سٹریٹ جنرل‘‘ نے اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ایرانی حکومت کی جانب سے جارحانہ کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کو سست روی کا شکار کر کے ایرانی حکومت صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹس ’’ فیس بک‘‘، ’’ٹویٹر‘‘ اور ’’یو ٹیوب‘‘ اور اسی طرح نیوز ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے والے صارفین کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

داریں اثنا ایران حکومت نے انٹرنیٹ کی سہولت میں رکاوٹ اور صدارتی انتخابات کے درمیان کسی تعلق کی نفی کی ہے۔ انٹرنیٹ کے صارفین نے مارچ 2012ء میں قائم کی گئی سپریم کونسل آف سائبر سپیس سے پر بھی الزام عائد کیا ہے حالانکہ اسی کونسل نے نے مارچ میں ورچول پرائیوٹ نیٹ ورک (VPN) کی بندش کے بعد نیشنل ورچول نیٹ ورک لانچ کیا تھا۔

ایران میں اس سوفٹ ویئر کی لاگت چالیس لاکھ ایرانی ریال ہے جو تقریبا 115 ڈالر ماہانہ بنتی ہے۔ جبکہ اس سے قبل ورچول پرائیویٹ نیٹ ورک پروگرام کی لاگت 50 ڈالر ماہانہ تھی۔