.

اردن: صدام اور مالکی کے حامیوں کے درمیان تصادم، کرسیاں چل گئیں

عراقی سفیر کی صدام حسین پر تنقید خونریز تصادم پر منتج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے دارلحکومت عمان میں عراقی سفارتخانے کے زیر اہتمام ایک پروگرام عراقی سفیر کے صدام حسین مخالف تبصرے کے بعد میدان جنگ بن گیا۔ پروگرام میں شریک صدام نواز اردنیوں اور نوری المالکی کے حامی عراقی شرکاء باہم دست و گریبان ہو گئے۔ ہال میں شرکاء نے ایک دوسرے پر خوب لاتیں اور کھونسے چلائے جب اس سے دل نہیں بھرا تو کرسیاں چل گئیں۔

لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا جب عمان میں عراقی سفیر ھادی جواد نے صدام حسین کے خلاف ایک جذباتی تقریر کی جس کے جواب میں ہال میں موجود صدام حسین کے حامی اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سفیر محترم سے سوال کیا کہ حالیہ دنوں میں عراق سے ملنے والی اجتماعی قبروں کا ذمہ دار کون ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں لاقانونیت کی کارروائیوں میں مرنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ہال میں موجود نوری المالکی کے حامیوں نے بھی شور بلند کر دیا جس میں جلد ہی کان پڑی آواز سنائی نہ دی۔

دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی کا سلسلہ جلد ہی فری سٹائل باکسنگ کا روپ دھار گیا۔ ریسلنگ کے رنگ میں جلد ہی لاتیں اور گھونسے چلنے لگے جبکہ غصے میں بپھرے ہوئے شرکاء نے ثقافتی ہال میں موجود کرسیوں کا بھی خوب استعمال کیا۔ متعدد مبصرین نے پروگرام میں بدمزگی کا ذمہ دار عراقی سفیر کو قرار دیا ہے کہ جنہوں نے موقع کی نزاکت کو مدنظر رکھے بغیر اپنی تقریر میں صدام حسین پر چڑھائی کر دی۔