مصر: سیناء میں اغوا کے واقعے کے بعد فوجی کمک روانہ

یرغمالی سکیورٹی اہلکاروں کی صدر محمد مرسی سے رہائی دلانے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر نے جزیرہ نما سیناء میں اپنے سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے واقعہ کے بعد فوج کی مزید نفری اور بکتر بند گاڑیاں بھیج دی ہیں۔

مصری روزنامے الاہرام کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی کمک نہر سویز کے راستے بھیجی گئی ہے اور اس کو یرغمال سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

صدر محمد مرسی نے اتوار کو ایک بیان میں حکام کو اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات سے روک دیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ''جرائم پیشہ افراد کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور ریاست کی عمل داری کو برقرار رکھا جائے گا''۔

گذشتہ روز یرغمالی سات سکیورٹی اہلکاروں کی یوٹیوب کے ذریعے ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی۔ان کی آنکھیں بندھی ہوئی تھیں اور ہاتھ سر کے ساتھ بندھے تھے۔اس میں وہ اپنی رہائی کی اپیل کررہے تھے۔اس ویڈیو کو میڈیا پر نشر کیے جانے کے ایک گھنٹے کے بعد یوٹیوب سے ہٹا لیا گیا تھا۔

ویڈیو میں ایک اغوا کار نے ایک یرغمالی پر بندوق تان رکھی تھی اور دوسرا یرغمالی کہہ رہا تھا کہ اغوا کار جیل میں قید بدّو سیاسی کارکنوں کی رہائی چاہتے ہیں۔اس نے ایک بدو جنگجو کا نام بھی لیا جس کی اغوا کار رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس کا تعلق اسلامی گروپ جماعۃ التوحید والجہاد سے بتایا گیا ہے۔اس کو 2011 ء میں شمالی سیناء کے شہر العریش میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ایک یرغمالی نے صدر محمدمرسی سے اپیل کی ہے کہ ''وہ سیناء سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان کو جلد سے جلد رہا کردیں کیونکہ ہم ان کے تشدد کے سامنے اب زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے ہیں''۔

اسلامی جنگجوؤں نے جمعرات کو سیناء کے علاقے میں العریش اور رفح کے درمیان شاہراہ پر سفر کے دوران ایک منی بس میں سوار تین پولیس اہلکاروں اور چار فوجیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا۔ان میں سے تین اہلکار رفح بارڈر کراسنگ پر تعینات تھے۔اغوا کاران سکیورٹی اہلکاروں کے بدلے میں مصری جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔انھوں نے ایک قیدی جنگجو پر پولیس کے تشدد کی بھی شکایت کی ہے جس کے بعد اس جنگجو کو علاقے سے کسی اور جیل میں منتقل کردیا گیا ہے اور تشدد کے ذمے دار پولیس اہلکار سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

مصری فوج نے اتوار کو صدر محمد مرسی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ العریش میں سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دیں لیکن سکیورٹی حکام اور اغوا کاروں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مقامی عمائدین نے صدر پر زوردیا ہے کہ وہ کسی بھی خونریز کارروائی سے گریز کریں کیونکہ اس طرح صورت حال مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

مصری پولیس نے سات سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے ایک روز بعد جمعہ کو غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کو احتجاجاً بند کردیا تھا اور اتوار کو رفح میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے اسرائیل کے ساتھ واقع ایک تجارتی گذرگاہ کو بھی بند کردیا تھا۔انھوں نے اپنے ساتھیوں کی بازیابی تک سرحدی گذر گاہیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں