حزب اللہ کے شام میں کردار پر اوباما کا لبنان سے اظہار تشویش

براک اوباما کا اپنے لبنانی ہم منصب میشل سلیمان کو ٹیلی فون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے شام کے اندر لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے لبنانی ہم منصب میشل سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ لبنانی سرحد کے قریب انقلابیوں کے گڑھ القصیر پر حزب اللہ کی مدد سے شامی فوج کے حالیہ حملے کے بعد شامی بحران کا دائرہ وسعت اختیار کر سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ ہمسایہ ملک لبنان بھی اس کی لپیٹ میں آ جائے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز شامی رضاکاروں نے بتایا کہ اپوزیشن کے گڑھ القصیر میں شامی فوج بیس اور بشار الاسد کے حامی اجرتی قاتلوں سے تعلق رکھنے والے تیس افراد مارے گئے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر براک اوباما نے میشل سلیمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کا شامی لڑائی میں بڑھتا ہوا اثر و نفوذ اور بشار الاسد فوج کی جگہ معرکے میں شرکت لبنانی حکومت کی پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
صدر براک اوباما نے میشل سلیمان اور لبنانی عوام کی جانب سے شامی مہاجرین کی میزبانی کی خاطر اپنی سرحد کھلی رکھنے پر انہیں شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ امریکا لبنان کو حالیہ درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون و مدد فراہم کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام فریق لبنان کی شام میں عدم مداخلت کی پالیسی کا احترام کریں اور ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کریں کہ جن کی وجہ سے شامی عوام اس لڑائی میں گھسیٹے جائیں۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں امریکی دفتر خارجہ نے شامی فوج کا حزب اللہ کی معاونت سے القصیر پر فوجی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے الزام عاید کیا کہ دمشق، حزب اللہ کو اپنے داخلی معاملات میں ملوث کر کے اپنے داخلی مسائل کو فرقہ وارانہ تنازعے کی شکل دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں