مصر: فوج کی سیناء میں جنازے پرغلطی سے فائرنگ، ایک ہلاک

سنئیر فوجی افسر نے جنگجوؤں کے شُبے میں بدوؤں پر فائرنگ کی معافی مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے علاقے سیناء میں سکیورٹی اہلکاروں نے سات یرغمالی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے تلاشی کی کارروائی کے دوران غلطی سے بدوؤں کے ایک جنازے پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

ایک سکیورٹی عہدے دار اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ علاقے میں تعینات سنئیر فوجی افسر نے منگل کو پیش آئے اس واقعے پر مقتول کے خاندان سے معافی مانگ لی ہے۔اس سرکاری بیان سے قبل مصری ٹی وی چینل نے سیناء کے ایک گاؤں البرث میں فضائی حملے کی اطلاع دی تھی۔

اس ٹی وی رپورٹ کے مطابق حملے میں ایک جنگجو مارا گیا تھا ،تین کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور آٹھ کاریں بھی ضبط کر لی گئی تھیں۔تاہم مصری حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور فوجیوں نے یہ خیال کیا تھا کہ آٹھ پک اپ گاڑیوں پر مشتمل جنازے کے جلوس میں مسلح افراد بھی موجود تھے اور انھوں نے رکنے کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔

اس کے بعد فوجیوں نے سوگواروں کے اس قافلے پر انجانے میں فائرنگ کردی۔اس کے جواب میں جنازے میں شامل بعض افراد نے بھی جوابی فائرنگ کی اور پھر وہ وہاں بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے اور اپنے پیچھے ایک لاش کو چھوڑ گئے۔ان کے بارے میں بعد میں سکیورٹی فورسز کو پتا چلا کہ وہ تو ایک جنازے کے شرکاء تھے۔

قبل ازیں مصری فوج نے کہا تھا کہ وہ گذشتہ جمعرات کو سیناء کے علاقے میں اغوا کیے گَئے سات سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے صدر محمد مرسی کی اجازت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

درایں اثناء مصری وزیراعظم ہشام قندیل نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ یرغمالی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ سیناء میں عینی شاہدین کا کہناہے کہ علاقے میں فوج کی نقل وحرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مصری فوج نے جزیرہ نما سیناء میں سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے واقعہ کے بعد مزید نفری اور بکتر بند گاڑیاں بھیجی ہیں۔

صدر محمد مرسی نے اتوار کو ایک بیان میں حکام کو اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات سے روک دیا تھا اور کہا تھا ''جرائم پیشہ افراد کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے بلکہ ریاست کی عمل داری کو برقرار رکھا جائے گا''۔تاہم سوموار کو صدر مرسی کا ایک نیا موقف سامنے آیا تھا اور ایوان صدر کے ترجمان نے کہا تھا کہ یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے مذاکرات سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں