.

ایران اور حزب اللہ نے بشارالاسد کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے:برطانیہ

شامی صدر کو جانا ہوگا،ان کی موجودگی میں بحران حل نہیں کیا جاسکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ایران اور اس کی اتحادی لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بشارالاسد کی پشتی بانی کررہے ہیں اور وہ شامی صدر کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت عمان میں بدھ کو دوستان شام ممالک کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ولیم ہیگ نے کہا کہ ''برطانیہ آیندہ چند روز میں عالمی طاقتوں سے شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے کہے گا''۔

انھوں نے نیوزکانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا:''برطانیہ کا یہ دیرینہ موقف ہے کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا کیونکہ ان کی موجودگی میں ہم بحران کا کوئی بھی حل تلاش نہیں کرسکتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شام میں مکمل اختیار کے ساتھ عبوری حکومت کے قیام پر کوئی سمجھوتا ہونا چاہیے لیکن یہ حکومت باہمی اتفاق رائے سے قائم کی جانی چاہیے''۔

عمان میں آج دوستان شام کے اجلاس میں شامی تنازعے کے حل کے لیے امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور خاص طور پر امریکا اور روس کی جانب سے شام پر جنیوا میں عالمی کانفرنس بلانے کی حالیہ تجویز پرغور کیا جائے گا۔

اس اجلاس میں برطانیہ ،مصر ،فرانس ،جرمنی ،اٹلی ،اردن ،قطر ،سعودی عرب ،ترکی ،متحدہ عرب امارات اور امریکا کے نمائندے شرکت کررہے ہیں۔تاہم اس میں میزبان ملک اردن نے شامی حزب اختلاف کو مدعو نہیں کیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اختلاف کے تمام نمائندے اس میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔البتہ اس نے شامی قومی اتحاد کو آخری منٹ میں اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے اور اس کے قائم مقام صدر جارج صبرا کی شرکت متوقع ہے۔