.

کانفرنس کے دروان دھنیگا مشتی پرعراق کی اردن سے معذرت

اردنی شہریوں کا عراقی سفیر کی عمان سے واپسی پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے اپنے سفارتی عملے کی جانب سے گزشتہ روز ایک کانفرنس کے دوران اردنی شہریوں پر حملے کی باضابطہ معذرت کرلی ہے۔ عراق میں اجتماعی قبروں کے موضوع پر عمان میں ہونے والی کانفرنس کے دوران نوری المالکی کے حامی عراقی سفارتی عملے اور صدام حسین کے حامی اردنی شہریوں کے مابین گھمسان کا رن پڑا تھا جس میں دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر کرسیوں کا آزادانہ استعمال کیا تھا۔

اردنی وزیر خارجہ کے مطابق عراقی حکومت اتوار کے روز عمان میں اپنے سفارت خانے کے زیر اہتمام کانفرنس کے دوران سفیر جواد ھادی عباس کی جانب سے اردنی وکیل زیاد نجداوی پر کیے جانے والے حملے کی تحقیقات کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

عراقی معذرت پر اردن بار ایسوسی ایشن نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صرف بغداد کی صرف معذرت کافی نہیں بلکہ گزشتہ روز کانفرنس کے دروان دھینگا مشتی کرنے والے افراد اگر عراقی سفارتی عملے کے ارکان ہیں تو انہیں واپس عراق بھیج دیا جائے جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے اور اگر ایسا کرنے والے اردنی شہری تھے تو انہیں مقامی عدالتوں کے ذریعے قرار واقعی سزائیں دلوائی جائیں۔

دوسری جانب عرب و عالمی امور کی پارلیمانی کمیٹی نے ثقافتی ہال کو میدان جنگ بنانے والے ان عراقیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو سفارتی ضابطوں کے تحت رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر اردنی وزیر ثقافت نے سب پر سبقت لے گئے اور انہوں نے حملہ آور عراقیوں کے خلاف سخت کارروائی نہ کیے جانے کی صورت میں اپنے استعفے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

اسی حوالے سے اردنی مظاہرین نے بغداد میں عراقی سفارت خانے کے سامنے بھی احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے سفارت خانے کی عمارت پر حملے کی کوشش کی تاہم اردگرد تعینات سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مظاہرین اردن میں عراقی سفیر کے خلاف زبردست نعرے بازی کرتے رہے۔

یہ احتجاج عراقی سفیر اور سفارت خانے کے دیگر عملے کی جانب سے صدام نواز اردنی شہریوں پر بہیمانہ تشدد کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ جن افراد کو پیٹا گیا ان میں مرحوم عراقی صدر صدام حسین کے وکیل بھی تھے۔ واقعہ ایک اردنی تنظیم کی جانب سے سابق عراقی حکومت کے دوران ’’اجتماعی قبروں کی یاد‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب میں پیش آیا تھا۔