شام میں جاری لڑائی میں حزب اللہ کے 75 جنگجو مارے گئے

لبنانی تنظیم کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں سے لڑرہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک لبنانی تنظیم حزب اللہ کے پچھہتر جنگجو صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکارباغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

لبنانی ملیشیا کے ایک ذریعے نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''شام میں چند ماہ پیشتر حزب اللہ کی مداخلت کے بعد سے باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ستاون جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور وہاں لڑائی میں زخمی ہونے والے اٹھارہ جنگجو بعد میں دم توڑ گئے''۔

شامی حزب اختلاف کے کارکنان حزب اللہ پرمتعدد مرتبہ یہ الزام عاید کرچکے ہیں کہ اس کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف وسطی قصبے القصیر اوردوسرے علاقوں میں لڑرہے ہیں۔تاہم حزب اللہ ماضی میں تو ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

البتہ تنظیم کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے 30 اپریل کو ایک تقریر میں شام میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ''جب کبھی کوئی شہید گرتا ہے،اس کے خاندان کو مطلع کیا جاتا ہے اور اس سے اگلے روز اس کا جنازہ ہوتا ہے۔تمام شہداء کے جنازے ہوں گے ،اس کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ہمیں اپنے شہداء کے بارے میں کوئی شرمساری نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ'' خطے میں شام کے دوست موجود ہیں اور وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرنے نہیں دیں گے۔ انھوں نے بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے سنی مسلمانوں کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا ،اسرائیل اور تکفیری گروپوں کے ہاتھوں شام کو گرنے کی اجازت نہیں دیں گے''۔

شامی فوج کے خلاف محاذآراء باغیوں کے ساتھ لڑائی میں کُودتے وقت حزب اللہ نے کہا تھا کہ وہ سرحد کے ساتھ واقع صرف ان دیہات کا دفاع کررہی ہے جہاں اہل تشیع کی آبادی ہے اور دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع حضرت سیدہ زینب کے مزار کا دفاع چاہتی ہے۔تاہم بعد میں اس کے اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو وسطی قصبے القصیر میں شامی فوج کے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہوگئے۔

حزب اللہ کے امور کے ایک ماہر ودہ شرارہ کا کہناہے کہ ''اس تنظیم کے پاس کم سے بیس ہزار مسلح جنگجو ہیں۔ان میں سے پانچ سے سات ہزار اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور حزب اللہ کے آٹھ سو سے بارہ سو کے درمیان جنگجو القصیر میں جاری لڑائی میں شریک ہیں''۔

واضح رہے کہ شامی فوج گذشتہ اتوار کو باغیوں کے زیر قبضہ القصیر میں داخل ہوگئی تھی اوراس نے شہر کے مرکزی چوک اور اس کے نواح میں واقع بلدیہ کے علاوہ متعدد عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔شامی فوج نے اس کے بعد شہر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں اورتوپخانے سے شدید گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شامی فوج نے گذشتہ کئی ہفتوں سے القصیر کا محاصرہ کررکھا تھا لیکن اسے لبنانی تنظیم کی کمک پہنچنے کے بعد میدان جنگ میں کامیابی ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں