.

غزہ ہسپتالوں کو اسرائیل سے زیرہلی گیس کی سپلائی

انستھیزیا کے سیلنڈروں میں مہلک کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں مستعفی فلسطینی حکومت کی وزارت صحت نے اسرائیل پر انستھیزیا کے سلنڈروں میں ہلاکت خیز کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ اس امر کا انکشاف اس وقت ہوا کہ جب آپریشن کی خاطر بعض مریضوں کو دی جانے والے انستھیزیا کی خوراک سائیڈ ایکفٹس ظاہر ہونے لگے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اسرائیل سے درآمد کردہ انستھیزیا کے دو سلنڈروں میں نائٹروجن کے بجائے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بھری ہوئی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ انستھیزیا کے سلنڈروں میں نائٹروس گیس کو زہریلی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے تبدیل کر دیا گیا تھا جس کے باعث زہریلی گیس کی خوراک لگنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اشرف القدرہ نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیق کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس خطرناک صورتحال کے اسباب معلوم کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی ہلال احمر سے بھی اس واقعے کی شکایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے طور پر اس قضیئے کی تحقیق کرے۔ انہوں نے بتایا کہ چار مریضوں کو جراحی کے لئے انستھیزیا کی خوراک دی جا رہی تھی تو مریض کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر انستھیزیا سیلنڈر کے معائنے پر اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پائی گئی۔

اس واقعے کے بعد فوری طور پر تمام شیلڈول آپریشن روک دیئے گئے اور اسٹاک میں موجود انستھیزیا کے تمام سیلنڈروں کا معائنہ کیا گیا اور حتمی تسلی کے بعد دوبارہ آپریشنز کا آغاز کیا گیا۔

یاد رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بے رنگ اور اور بے بو زہریلی گیس ہے۔ یہ گیس خون کے ہومو گلوبین میں شامل ہو کر جسم کے خلیوں کو آکسیجن کی فراہمی روک دیتی ہے، تاہم نائٹروس گیس کو 'لافنگ گیس' کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ گیس بھی کے بے رنگ ہوتی ہے تاہم امتیازی خوشبو سے اسے شناخت کیا جا سکتا ہے۔