.

فلسطینی لڑکی نے دنیا کی سب سے کم عمر ڈاکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا

میرے لئے اس اعزاز سے اہم فلسطینی بچوں کی خدمت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیس سالہ فلسطینی دوشیزہ نے دنیا کی سب سے کم عمر ڈاکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اقبال محمود الاسعد نامی فلسطینی دوشیزہ کا نام 'گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ' میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس سے انہیں دنیا کی سب سے کم عمر دوسری طالبہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ اعزاز اقبال محمود نے صرف تیرا برس کی عمر میں حاصل کیا تھا۔

میڈیکل ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کرنے پر فلسطینی طالبہ کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی تمام صلاحتیں اپنے ملک کے بچوں کے علاج پر صرف کریں کیونکہ لبنان میں ان کے اہل خانہ اور ہم وطنوں نے انہیں جس محبت سے ان مقام تک پہنچایا ہے۔ اب ان کا یہ احسان اتارنے کا وقت ہے۔

اقبال کی والدہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کی بیٹی شروع ہی سے انتہائی لائق تھی اور انہوں نے نرسری اور پرائمری دونوں گریڈز میں ڈبل پروموشنز لئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے انٹر کا امتحان صرف بارہ برس کی عمر میں پاس کر لیا تھا اور بعد میں وہ میڈیکل تعلیم کے لئے قطر میں مشہور وائل کرونیل میڈیکل کالج سے منسلک ہو گئیں۔

اقبال الاسعد کے لئے دنیا کی سب سے کم عمر ڈاکٹر ہونے کا اعزاز اگرچہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تاہم انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی اس کوشش سے فلسطین اور لبنان کا نام روشن ہوا ہے۔ 'میرے لئے جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ فلسطینیوں اور لبنانیوں نے کچھ پیش رفت کی ہے۔"

ایک سوال کے جواب میں اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا کوئی مطالبہ نہیں بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ اب کچھ اپنے معاشرے اور والدین کو لوٹا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن سے ان کا خواب تھا کہ وہ فلسطینی بہن بھائیوں کی مدد کر سکیں۔ اسی لئے میں بے بچوں کی ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا تاکہ میں ان لوگوں کی مدد کر سکوں۔