.

لبنانی صدر کا شام میں حزب اللہ کے کردار پر انتباہ

شیعہ ملیشیا کے سربراہ حسن نصراللہ شامی عوام کے قاتل ہیں:ترجمان جیش الحر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی صدر مائیکل سلیمان نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی میں شرکت اور شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑائی پر انتباہ کیا ہے۔

انھوں نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مزاحمت کسی بھی اور چیز کی نسبت زیادہ اہم ہے اور اسے شام یا لبنان میں تنازعات میں نہیں الجھنا چاہیے''۔ان کا اشارہ حزب اللہ کی اسرائیل کی مزاحمت کی جانب تھا۔

درایں اثناء شام کے باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پرمشتمل جیش الحر نے حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کو ذاتی طور پر سرحدی قصبے القصیر کی صورت حال کا ذمے دار قرار دیا ہے جبکہ لبنان میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک حزب اللہ کے پچھہتر جنگجو صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکارباغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے ہیں۔لبنانی ملیشیا کے ایک ذریعے کے مطابق ''شام میں چند ماہ پیشتر حزب اللہ کی مداخلت کے بعد سے باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ستاون جنگجو ہلاک ہوئے ہیں اور وہاں لڑائی میں زخمی ہونے والے اٹھارہ جنگجو بعد میں دم توڑ گئے''۔

جیش الحر کے ترجمان لوئی المقداد نے العربیہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ''ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ حسن نصراللہ ذاتی طور پر موجودہ صورت حال کے ذمے دار ہوں گے کیونکہ وہ القصیر میں جنگجوؤں کو بھیجنے سے پہلے ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں''۔انھوں نے حسن نصراللہ کو شامی عوام کا قاتل قرار دیا۔

دوسری جانب بیروت کی لبنان امریکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر عماد سلامے کا کہنا ہے کہ لبنانی حکومت ''اللہ کی جماعت'' کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتی۔لبنانی حکومت عضو معطل بن چکی ہے اور وہ زیادہ تر حزب اللہ کے مفادات کے لیے ہی کام کرتی ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی فوج بھی حزب اللہ کو شام میں مداخلت سے نہیں روک سکتی۔یہ تنظیم شامی تنازعے میں مزید الجھتی جارہی ہے اور یہ معاملہ القصیر تک ہی محدود نہیں رہے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ لبنان کو بھی خانہ جنگی کی جانب دھکیل رہی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار سے لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان جاری جھڑپوں میں تیئس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حزب اللہ کی قیادت میں اہل تشیع شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں اور حزب اختلاف کے حامی ہیں۔