.

نصر اللہ کی تقریر سے پہلے حزب اللہ کی القصیر جنگ میں تیزی

جنگ میں تیزی کا مقصد 'پوائنٹ سکورنگ' ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ نے ہفتے کے روز شام کے وسطی شہر القصیر میں بشار الاسد نواز فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑائی تیز کر دی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے لڑائی میں تیزی کو 'پوائنٹ سکورنگ' سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے خطاب سے پہلے تنظیم کے شام میں برسرپیکار جنگجووں کی جانب سے لڑائی میں تیزی کا مقصد پوائنٹ سکورنگ ہے۔ حسن نصر اللہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجی انخلاء کی ترھویں سالگرہ کے موقع پرآج خطاب کرنے والے ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ شامی فوج اور حزب اللہ جنگجووں نے ہفتے کے روز شام کا وسطی علاقے القصیر کی مرکزی سڑکوں پرشدید بمباری کی۔ بحران کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے زیادہ شدید حملہ بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ القصیر سمیت اس کے جنوبی قصبے حمیدیہ اور ارجنیہ میں سابق فوجی ہوائی اڈے پر سرکاری فوج نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائیلوں سے حملہ کیا۔ القصیر ایک اہم علاقہ ہے جس پر باغیوں کا کنڑول ہونے کی صورت میں انہیں لبنان سے آنے والے اسلحے کی بہ حفاظت ترسیل میں مدد ملے گی۔

اس قصبے کی اہمیت بشار الاسد کی فوج کے بھی یکساں طور پر ہے کیونکہ یہ دمشق اور بحر متوسطہ کے ساحلی علاقے کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ علاقہ جنگ میں گھرے شامی صدر بشار الاسد کے علوی قبیلے کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

شامی فوج نے حزب اللہ کے جنگجووں کی مدد سے گزشتہ اتوار کو القصیر پر حملہ کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے جیش الحر نے لبنانی جنگجو تنظیم حسن نصر اللہ کو شام کے سرحدی قصبے القصیر میں تمام تر صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا تھا جس کی وجہ سے ہمسایہ ملک لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔

جیش الحر کے ترجمان لوئی المقداد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ تازہ صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حسن نصر اللہ پر عاید ہو گی کیونکہ وہ القصیر کے محاذ پر جانے سے قبل اپنے جنگجووں سے خود ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ 'ہم آج نصر اللہ کو شامی عوام کا قاتل کہنے پر مجبور ہیں۔'