ملکہ رانیا کا عرب دنیا میں بے روزگاری کے خاتمے پر زور

ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے علاقائی نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے: تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی ملکہ رانیا نے عرب دنیا میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ملازمت کے مواقع بہتر بنانے کے لیے علاقائی سطح پر نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے۔

وہ عمان میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بارے میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں تقریر کررہی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ''لاکھوں لوگوں کو لاکھوں ملازمتوں کی ضرورت ہے۔عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بہتر تعلیم کے حامل افراد اپنی پسند کی ملازمت حاصل نہیں کرسکتے لیکن کم تر تعلیم یافتہ افراد کو ملازمتیں مل جاتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ملازمتیں کم تر معیار کی حامل ہوتی ہیں''۔

ملکہ رانیا نے کہا کہ ''عربوں کو روزگار دلانے کے لیے علاقائی سطح پر نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے لیکن یہ کام سیاسی عزم کے بغیر نہیں ہوسکتا اور نہ یہ بالائی سطح سے ہوسکتا ہے۔اس کا آغاز حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک عمل کے ذریعے ہونا چاہیے''۔

انھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ ملازمتوں کا بحران ایک پرانا مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے اس مسئلے کا حل ترجیح نہیں رہا ہے۔''جب عرب دنیا میں بے روزگاری کے موضوع پر بات کی جاتی ہے تو ہم سالہا سال سے ایک ہی طرح کی باتیں کرتے اور سنتے چلے آرہے ہیں اور ایک ہی طرح کے حقائق کی نشاندہی کررہے ہیں لیکن صورت حال بہتر نہیں ہوئی بلکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں صورت حال بدتر ہوئی ہے اور غربت بڑھ رہی ہے''۔ ان کا کہنا تھا۔

اردن کی ملکہ نے مزید کہا کہ ''ہم نقطۂ کھولاؤ کے قریب پہنچتی ہوئی فرسٹریشن کا مشاہدہ کررہے ہیں،نوجوان مغالطے کا شکار ہورہے ہیں۔اس تناظر میں تعلیم کو فروغ دے کر ہم خطے میں روزگار کے مواقع کو بہتر بنا سکتے ہیں''۔

انھوں نے عرب دنیا میں پائے جانے والی اس مضحکہ خیزی کا برملا اعتراف کیا کہ ''ہم میں سے بیشتر لوگوں کے پاس جدید ترین فونز موجود ہوتے ہیں،ہم رجحان ساز آلات کے مالک ہیں،سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس پر ہم دوسروں سے آگے ہیں جبکہ ہمارے اسکول اور وہاں جو کچھ تعلیم دی جاتی ہے،وہ بہت پسماندہ ہے،اس کی اب مزید کوئی معذرت قبول نہیں کی جاسکتی۔ہمارے بچے اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم ان کے لیے بہتر اقدامات کریں''۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح 3۔28 فی صد ہے اور سال 2020ء تک خطے میں ایک اندازے کے مطابق دس کروڑ نئی ملازمتوں کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں