حزب اللہ کے زیر نگیں جنوبی لبنان پر گراڈ راکٹ حملہ

حملے میں چار افراد زخمی ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان کے شیعہ اکثریتی ضلع میں اتوار کے روز گراڈ طرز کے راکٹ حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق حملہ لبنانی عسکری تنظیم کے سربراہ حسن نصر اللہ کے ایک دن پہلے کئے جانے والی نشری خطاب کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ اپنی تقریر میں حسن نصر اللہ نے شامی اتحادی صدر بشار الاسد کی جگہ شام میں لڑائی لڑنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ایک اور ذریعے نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کہ دو راکٹ جنوبی بیروت کے نواح میں گرے۔ ایک راکٹ کاروں کے شو روم پر گرا جس کے نتیجے میں چار افراد ذخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نیز حملے سے شو روم میں کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصا پہنچا۔

بشار الاسد شام میں اپنے خلاف عوامی بغاوت کچلنے کی خاطر دو برس سے انقلابیوں سے برسرپیکار ہیں۔ اس جنگ میں انہیں سرکاری فوج کے علاوہ لبنانی حزب اللہ کی حمایت اور تعاون بھی حاصل ہے۔

حسن نصراللہ نے ہفتے کی شام اپنے خطاب میں شامی اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں 'کامیابی' کا عہد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی تنظیم تنازع میں اپنے کردار کے بارے میں پوری طرح یکسو ہے اور اس کے نتیجے میں آنے والی قربانیوں اور نتائج کو تسلیم کرتی ہے۔

جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی 13 ویں سالگرہ 'یوم آزادی' کے موقع پر اپنے خطاب کرتے ہوئے حسن نصر اللہ نے کہا: "میں باعزت عوام، مجاہدین اور ابطال کو یاد دلانا چاہتا ہوں ک میں نے ہمیشہ آپ سے کامیابی کا وعدہ کیا ہے۔ اب میں شام میں نئی 'کامیابی' کا وعدہ کرتا ہوں۔"

حزب اللہ کے رہنما نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی تنظیم کے جنگجو شام میں بشار الاسد نواز فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ ان کی لڑائی شام کے ان انتہا پسندوں کے خلاف ہے کہ جو لبنان کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ میری بھی پہلی خواہش ہے کیونکہ حزب اللہ کے جنگجو شام کے وسطی شہر القصیر کی لڑائی میں بہت زیادہ جت چکے ہیں۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ ساری دنیا سے انتہا پسندوں کو شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ دوسی طرف حزب اللہ کے مٹھی بھر افراد کی شام میں موجودگی کا واویلہ کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں