شام کا مجوزہ ''جنیوا امن کانفرنس'' میں شرکت کا اصولی فیصلہ

کانفرنس شام میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی حل کا بہترین موقع ہوگی:ولید المعلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت جنیوا میں ہونے والی مجوزہ امن کانفرنس میں شرکت کرے گی اور یہ شام میں جاری خانہ جنگی کے سیاسی حل کا بہترین موقع ہوگی۔

انھوں نے یہ اعلان بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب ہوشیار زیباری کے ساتھ اتوار کو ایک مشترکہ نیوزکانفرنس میں کیا ہے۔ولید المعلم غیرعلانیہ دورے پر عراق کے دورے پر پہنچے ہیں اور انھوں نے وزیراعظم نوری المالکی کو بھی صدر بشارالاسد کی حکومت کے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

انھوں نے عراقی وزیرخارجہ کے ساتھ بات چیت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ''شام آیندہ ماہ جنیوا میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں اصولی طور پر شرکت کرے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کانفرنس شامی بحران کے حل کا بہترین موقع ہوگی''۔

ولید المعلم عراق کی جانب سے ملک کی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے صحرائی علاقے میں ایک بڑی فوجی کارروائی کے آغاز کے ایک روز بعد بغداد پہنچے ہیں۔عراقی فورسز ان اطلاعات کے بعد اس علاقے میں کارروائی کررہی ہیں کہ وہاں سے جنگجو شام میں داخل ہورہے ہیں اور وہ شامی باغیوں کے شانہ بشانہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

اسدی فوج کے خلاف لڑنے والے گروپوں میں عراقی القاعدہ سے وابستہ سنی جنگجو سب سے نمایاں ہیں اور ان کی شام کی خانہ جنگی میں شرکت کے بعد اس تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ عراق بھی اس خانہ جنگی سے متاثر ہوسکتا ہے۔ عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران رونما ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات کو اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے جن میں بیسیوں افراد مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق نے اپنے تئیں شام میں جاری تنازعے سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور اس نے صدربشارالاسد یا ان کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں میں سے ایک کا ساتھ نہیں دیا لیکن مغربی حکومتیں عراقی حکومت پر یہ الزامات عاید کرتی چلی آرہی ہیں کہ اس نے شام کے لیے ایران سے آنے والی پروازوں سے آنکھیں موند رکھی ہیں حالانکہ ان پروازوں کے ذریعے شامی حکومت کو مبینہ طور پر فوجی آلات اور اسلحہ مہیا کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں