.

اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان سے آنے والے راکٹ کی تحقیقات

عرب لیگ کا حزب اللہ سے شام میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے کنٹرول والے علاقے میں دو گراڈ راکٹ گرنے کے ایک روز بعد جنوبی قصبے مرجعيون سے سوموار کو اسرائیل کی جانب ایک راکٹ فائر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے راکٹ گرنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔اسرائیل کی سرحد سے قریباً دس کلومیٹر دور واقع لبنانی قصبے مرجعيون کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صبح کے وقت راکٹ چلانے کی آواز سنی تھی۔

گذشتہ روز بیروت کے علاقے الشیعہ میں دو راکٹ گرے تھے جن کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ان راکٹوں کو حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی تقریر کا ممکنہ ردعمل قرار دیا گیا تھا جس میں انھوں نے شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے عزم کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس جنگ میں فتح حاصل کریں گے۔

لبنانی فوج کے ایک بیان کے مطابق ان میں سے ایک راکٹ بیروت کے جنوبی علاقے مار میخائل میں ایک چرچ کے نزدیک کھڑی کار پر آکر لگا تھا جس کے نتیجے میں اس میں سوار چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔دوسرا راکٹ اس جگہ سے دو کلومیٹر دور واقع علاقے الشیعہ میں ایک اپارٹمنٹ کی چھت پر آکر گرا تھا۔

لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق مارمیخائل کے علاقے میں دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں تین شامی ہیں۔ایک سکیورٹی عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ بیروت کے جنوب مشرقی علاقے میں عیسائیوں اور دروز کی آبادی والے علاقے سے لکڑیوں سے راکٹ لانچرز مل گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شامی جیش الحر نے لبنان میں راکٹ حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور حزب اللہ اور شامی حکومت پر ان راکٹ حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔

درایں اثناء عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے حزب اللہ پر زوردیا ہے کہ وہ شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے سے باز آجاَئے۔انھوں نے بیروت میں گراڈ راکٹوں کے حملے اور شمالی شہر طرابلس میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر جھڑپوں کی مذمت کی ہے۔

طرابلس میں گذشتہ اتوار سے اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان جاری جھڑپوں میں پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حزب اللہ کی قیادت میں اہل تشیع شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں اور حزب اختلاف کے حامی ہیں۔