.

بغداد میں پھر پے در پے بم دھماکے، 70 افراد جاں بحق

موصل،کرکوک میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں پولیس کرنل سمیت متعدد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں شیعہ آبادی والے مضافاتی علاقوں میں پے درپے تیرہ بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں ستر سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس حکام کی اطلاع کے مطابق حملہ آوروں نے بغداد کے علاقے صدر سٹی اور دوسرے حصوں میں مصروف بازاروں اور مارکیٹوں میں یکے بعد دیگرے گیارہ بم دھماکے کیے ہیں۔ صدر سٹی میں دو بم دھماکوں میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ادھر شمالی شہر کرکوک میں عراقی سکیورٹی فورسز کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں تین افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔شمالی شہر موصل میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں ایک پولیس کرنل ہلاک ہو گیا۔ فوری طور پر کسی گروپ نے بغداد اور دوسرے علاقوں میں ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

عراق میں رواں ماہ اب تک چارسو چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اس سال یہ دوسرا مہینہ ہے جس میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سہ 2006ء اور 2007ء میں تشدد کے عروج کے دنوں کے بعد سے ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ بنیاد پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔اہل تشیع اور اہل سنت دونوں ایک دوسرے کو بم حملوں یا فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں اور ان حملوں میں اس سال اب تک ہر ماہ اوسطاً 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں گذشتہ چندماہ سے خودکش حملہ آوردھماکے کررہے ہیں۔وہ اپنے حملوں میں اہل تشیع ،اہل سنت ،قبائلیوں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن گذشتہ ماہ شمالی شہر کرکوک کے نزدیک واقع قصبے حوائجہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے اہل سنت مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے بعد سے ملک میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہواہے۔

ماضی میں عراق میں القاعدہ کی شاخ ریاست اسلامی پر دہشت گردی کے حملوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں القاعدہ کی شاخ ہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا رہی ہے جبکہ اس خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے عراق میں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس فرقہ وارانہ تناؤ کی وجہ سے بھی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہواہے۔