'ولی الفقیہ' اسلامی ملکوں کا حاکم ہو گا: حسن نصر اللہ

"لبنان، امام مہدی اور ان کے نائب خمینی کے زیر نگین ریاست کا حصہ ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے شام کی خانہ جنگی میں اپنے جنگجووں کی شرکت کے اعتراف کے بعد ان دنوں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو گردش میں ہے جس میں حزب اللہ کے رہنما لبنان کے حوالے سے اپنی مشن سٹیٹمنٹ دیتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

آن لائن مشتہر کی جانے والی ویڈیو مبینہ طور پر1988ء میں ریکارڈ کی گئی جس میں نوجوان نصر اللہ یہ کہتے اور دیکھے سنے جا سکتے ہیں کہ: "مومن کے طور پر ہمارا منصوبہ اسلامی حکمرانی کے تحت ایک اسلامی ریاست قائم کرنا ہے۔ اس منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔"

انہوں نے مزید کہا: "لبنان، ایک الگ اسلامی جمہوریہ نہیں بلکہ حضرت امام مہدی اور ان دست راست ولی الفقیہ امام خمیمی کی زیرنگیں عظیم اسلامی جمہوریہ کا حصہ ہو گا۔"

جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ترھویں سالگرہ کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے شام میں کامیابی کا وعدہ کیا تھا۔ اپنے نشری خطاب میں انہوں نے شام میں بشار الاسد اور ایران کے ساتھ اپنی ہمدردی کا پرجوش دفاع کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شام، اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی لڑائی کا بشتی بان ہے۔ شام ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے اور اپنے پشتی بان کو خطرات میں گھرا دیکھ کر مزاحمت ہاتھ باندھے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ایسے حالات میں ہم حرکت میں نہ آ کر احمقانہ پن کا مظاہرہ کریں گے۔"

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ امریکا، اسرائیل اور سخت گیر تکفیری مسلمانوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ مزارات کو تباہ اور مسلمانوں کے قلم کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں