اردن کی پارلیمنٹ میں دو ارکان کے درمیان ہاتھا پائی

تلخ کلامی کا آغاز وزیراعظم کے خطاب کے بائیکاٹ سے ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں اس وقت شدید بدمزگی پھیل گئی جب دو اراکین پارلیمان کے درمیان شروع ہونے والی تو تکار دیکھتے ہی دیکھتے دو بدو لڑائی کی صورت اختیار کر گئی۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق رکن پارلیمنٹ یحیی السنور نے وزیر اعظم ڈاکٹر عبد اللہ النسور کے خطاب کا بائیکاٹ کرنا چاہا تو اس پر انہیں دوسرے رکن معتز ابو رمان نے روکنا چاہا تو اس پر یحیی السعود بھڑک اٹھے۔

یحیی السعود نے پہلے غضبناک حال میں معتز ابو رمان پر پانی کا گلاس اچھال دیا جواب میں ان کےساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا اور یوں دونوں آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ اس موقع پر اسپیکر سعد ھایل السرور نے لڑائی ختم کروانے کے لیے مداخلت کرتے ہوئے کہا: "جو کچھ یہاں ہوا وہ گفتگو اور مباحثے کے آداب سے کوسوں دور تھا۔ اس کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں۔" انہوں نے کہا کہ ان دو اراکین کے درمیان ہونے والی مڈ بھڑ اسمبلی فورم کے غلط استعمال کے زمرے میں آتی ہے۔ سعد ھایل السرور نے اسمبلی اجلاس میں ہونے والے افسوسناک واقعے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور قوم سے بھی معذرت کی۔

واضح رہے کہ اردنی پارلیمنٹ میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ چند دن قبل پارلیمان کے بزرگ رکن شادی العدوان نے اسمبلی ہال میں اسلحہ لہرانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران اپنا پستول استعمال کرنے کی کوشش کی تو اسپیکر کو اجلاس فوری طور پر ختم کرنا پڑا۔ گزشتہ برس جولائی میں اردنی ایوان کے دو معزز رکن ٹی وی چینل پر براہ راست نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران ہی آپس میں لڑ پڑے تھے اور ایک نے اپنا پستول بھی نکال لیا تھا۔ منتخب اراکین کی ’’اعلی اخلاقیات‘‘ کے یہ مناظر ناظرین نے براہ راست اپنی ٹی وی اسکرینز پر دیکھے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں