بستہ واپس مانگنے پر اسرائیلی فوجی نے فلسطینی نونہال پر فائر کھول دیا

کمر کی ہڈی میں پیوست گولی سے نچلا دھڑ مفلوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوجی کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے فلسطینی بچے کے اہل خانہ نے صہیونی فوج کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے ۔ صہیونی فوج پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ یہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی طور پر ممنوعہ گولیوں استعمال کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوجی اہلکاروں سے اپنا اسکول بیگ واپس لینے کی پاداش میں فلسطینی بچے پر فائر کھول دیا جس سے بچہ شدید زخمی ہوگیا۔ کمر کی ہڈی میں لگنے والی گولی سے بچے کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا ہے۔ بچے کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ صہیونی فوج نے جان بوجھ کر انتہائی قریب سے اسے نشانہ بنایا اور اس مقصد کے لئے بین الاقوامی طور پر ممنوعہ گولیاں استعمال کی گئیں۔

بارہ سالہ بچہ عطا ابن ربیعا پر ایک اسرائیلی اہلکار نے اس وقت گولی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ فوجی سے اپنا بستہ واپس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ سکول کے قریب موجود صہیونی اہلکاروں نے اسے روک کر اس پر فائرنگ کر دی۔ گولی کے لگنے سے عطا کا آدھا جسم مفلوج ہو گیا جسے بعد ازاں القدس کے ھداسا عین کارم ہسپتال میں علاج کے لیے منتقل کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوجی کی گولی عطا کے جسم میں پیوست ہونے کے ساتھ عطا کی ماں کا کلیجہ بھی چھلنی کر گئی جو اب تک اپنے جگر گوشے کی صحت یابی کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہے۔

عطا کی والدہ نے بتایا کہ ’’معلوم نہیں کہ وہ کیسا برا وقت تھا، اس کے پیٹ میں گہرا گھاؤ آی اہے۔ اصل مشکل اس حرام مغز اور پیروں کی وجہ سے ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں موجود عطا کی قریب سے ویڈیو یا تصویر لینے سے روک دیا گیا ہے جس کے بعد ہم دوبارہ جائے حادثہ پر گئے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ہمارے اس معصوم بچے نے کیا جرم کیا تھا جس پر صہیونی فوج نے اس پر یہ ظلم ڈھایا ہے۔

عطا کا اسکول یہودی بستی ’’بیت ایل‘‘ سے چند میٹر کی دوری پر ہے جس کی وجہ سے اس کے ہم مکتبوں ں کو ہمیشہ متشدد یہودیوں اور اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کا سامنا رہتا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے عطا کا بستہ تین دن سے اپنے قبضے میں لے رکھا تھا. عطا نے بستہ واپسی کی کوشش کی تو اسرائیلی فوجی نے اس پر فائرنگ کردی۔ عطا کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ فوجیوں نے تفریح طبع کے لئے فائرنگ کی۔

انہوں نے بتایا کہ عطا نے اپنا بستہ واپس لینے کے لئے انتہائی دلیری کا مظاہرہ کیا مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنا حق مانگنے کے لیے اٹھنے والے قدموں پر اب دوبارہ کبھی نہیں چل سکے گا اور تعلیم کی لگن میں اپنے بستے کی جانب یہ خطرناک سفر اس کا آخری سفر ثابت ہوگا کیونکہ صہیونی فائرنگ سے اس کا نچلا دھڑ مفلوج ہوگیا ہے اور وہ زندگی بھر چلنے پھرنے سے قاصر ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں