جیش الحر کا حزب اللہ کو شام چھوڑنے کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم

مداخلت بند نہ کرنے پرباغیوں کی شیعہ ملیشیا پرجوابی حملوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی سپریم فوجی کونسل کے کمانڈر نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی تنازعے میں اپنی مداخلت اور اسدی فوج کی حمایت کا سلسلہ بند کردے۔

بریگیڈئیرجنرل سلیم ادریس نے یہ بات العربیہ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے اور ان کا یہ انٹرویو منگل کو نشر کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر شامی علاقے میں آیندہ چوبیس گھنٹے میں حزب اللہ کے حملے ختم نہ ہوئے تو ہم اس کا پیچھے کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔حتیٰ کہ جہنم تک اس کا پیچھا کریں گے''۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''اگر حملوں کو روکنے کا فیصلہ نہیں کیا جاتا اور اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر میں نے اگر کوئی وعدہ کیا ہے تواس کا پابند نہیں رہوں گا۔جیش الحر اگر جوابی کارروائی کرتا ہے تو ہر کوئی ہمیں اس پر معاف رکھے کیونکہ حزب اللہ نے ہماری نسل کشی شروع کررکھی ہے''۔

شام کے وسطی قصبے القصیر میں اس وقت حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق لبنانی تنظیم نے گذشتہ ہفتے اس قصبے میں جیش الحر کے خلاف لڑائی کے لیے اپنے سترہ سو تربیت یافتہ جنگجو بھیجے تھے۔

جیش الحر کے ترجمان نے دوروز پہلے حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کو ذاتی طور پر سرحدی قصبے القصیر کی صورت حال کا ذمے دار قرار دیا تھا۔شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک لبنانی تنظیم حزب اللہ کے پچھہتر جنگجو صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکارباغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے جاچکے ہیں۔یہ وہ تعداد ہے جس کی تنظیم نے خود تصدیق کی ہے لیکن آزاد ذرائع حزب اللہ کی ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ بتا رہے ہیں۔

جیش الحر کے ترجمان لوئی المقداد نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ حسن نصراللہ ذاتی طور پر موجودہ صورت حال کے ذمے دار ہوں گے کیونکہ وہ القصیر میں جنگجوؤں کو بھیجنے سے پہلے ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں''۔انھوں نے حزب اللہ کے سربراہ کو شامی عوام کا قاتل قرار دیا۔

القصیر کے علاوہ دمشق کے علاقے غوطہ میں بھی حزب اللہ کے جنگجوؤں اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔بعض شامی کارکنان کا دعویٰ ہے کہ حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع شامی فضائِیہ کے انٹیلی جنس مرکز میں تربیت دی جارہی ہے۔انھوں نے غوطہ کے نواح میں واقع نو دیہات اور قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

شامی فوج کے خلاف محاذآراء باغیوں کے ساتھ لڑائی میں کُودتے وقت حزب اللہ نے کہا تھا کہ وہ سرحد کے ساتھ واقع صرف ان تیرہ دیہات کا دفاع کررہی ہے جہاں اہل تشیع کی آبادی کی کثرت ہے اور دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع حضرت سیدہ زینب کے مزار کا دفاع چاہتی ہے۔تاہم بعد میں اس کے اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو وسطی قصبے القصیر میں شامی فوج کے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہوگئے۔

حزب اللہ کی شام میں اس علانیہ مداخلت کے خلاف اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں القصیر میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی کی مذمت کی گئی ہے۔جنیوا میں بدھ کو انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اس قرارداد پر غور کیا جائے گا۔اس میں واضح اشارہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب ہے جو جیش الحر کے خلاف محاذآراء ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں