جیش الحرکا الٹی میٹم مسترد،حزب اللہ کے مزید جنگجوؤں کی القصیر آمد

شامی فوج کی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پرگولہ باری اور بڑے حملے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے جیش الحر کی جانب سے شام میں مداخلت بند کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم مسترد کردیا ہے اور خانہ جنگی کا شکار ملک میں لڑائی کے لیے مزید جنگجو بھیج دیے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حزب اللہ کے مزید جنگجو اور شامی ایلیٹ فورسز کے دستے سرحدی قصبے القصیر میں لڑائی کے لیے بھیجے گئے ہیں۔شامی جنگی طیاروں نے بدھ کو علی الصباح اس قصبے میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں پر بمباری کی ہے اور سرکاری فوج وہاں ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''حزب اللہ کے جنگجوؤں کی طرح ری پبلکن گارڈز شہری علاقوں میں گوریلا جنگ کے تربیت یافتہ ہیں۔ان کی تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ باغیوں کے زیر قبضہ القصیر کے شمالی اور مغربی علاقوں پر ایک بڑا حملہ کرنے والے ہیں''۔

حزب اللہ کے ایک قریبی ذریعے کا کہنا ہے کہ القصیر کا اسّی فی صد علاقہ اب شامی فوج کے کنٹرول میں ہے لیکن جیش الحر کے ذریعے نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس دعوے کی تردید کی ہے۔رامی عبدالرحمان نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ''شامی فوج کی سخت بمباری کے باوجود باغی شدید مزاحمت کررہے ہیں اور وہ دلیری سے لڑرہے ہیں''۔

تاہم انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ اب لڑائی میں لبنان سے تعلق رکھنے والے سنی جنگجو بھی شامل ہوگئے ہیں اور وہ جیش الحر کے ساتھ مل کر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کے اتحادی حزب اللہ جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ القصیر اور دوسرے علاقوں میں لڑائی اب شیعہ بمقابلہ سنی کی شکل اختیار کر گئی ہے اور فرقہ وارانہ بنیاد پر لڑائی میں شدت آتی جارہی ہے۔شامی صدر اہل تشیع کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں پڑوسی ممالک لبنان اور ایران کے اہل تشیع مدد بہم پہنچا رہے ہیں جبکہ شام کی آبادی کی اکثریت اہل سنت پر مشتمل ہے اور انھیں بعض عرب ممالک کی سیاسی اور اخلاقی حمایت حاصل ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ اگر القصیر پر شامی حکومت کا قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ باغی جنگجوؤں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا کیونکہ انھیں لبنان سے اسی راستے سے اسلحہ مہیا ہورہا ہے۔شامی فوج کے قبضے کے بعد انھیں لبنان سے اسلحے کی ترسیل بند ہوجائے گی اور یہاں شکست سے ان کے مورال پر بھی فرق پڑے گا۔

صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی سپریم فوجی کونسل کے کمانڈر بریگیڈئیرجنرل سلیم ادریس نے گذشتہ روز حزب اللہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ شامی تنازعے میں اپنی مداخلت اور اسدی فوج کی حمایت کا سلسلہ بند کردے لیکن حزب اللہ نے ان کے اس الٹی میٹم کو درخوراعتناء نہیں جانا اور اس تنظیم کے جنگجوبدستور القصیر میں لڑائی کے لیے آرہے ہیں۔

جنرل ادریس نے العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ''اگر شامی علاقے میں آیندہ چوبیس گھنٹے میں حزب اللہ کے حملے ختم نہ ہوئے تو ہم اس کا پیچھے کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔حتیٰ کہ جہنم تک اس کا پیچھا کریں گے''۔

القصیر میں اس وقت حزب اللہ کے سیکڑوں جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق لبنانی تنظیم نے گذشتہ ہفتے اس قصبے میں جیش الحر کے خلاف لڑائی کے لیے اپنے سترہ سو تربیت یافتہ جنگجو بھیجے تھے۔

شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں کُودتے وقت حزب اللہ نے کہا تھا کہ وہ سرحد کے ساتھ واقع صرف ان تیرہ دیہات کا دفاع کررہی ہے جہاں اہل تشیع کی آبادی کی کثرت ہے اور دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع حضرت سیدہ زینب کے مزار کا دفاع چاہتی ہے۔تاہم بعد میں اس کے اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو القصیر میں شامی فوج کے ساتھ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہوگئے۔

القصیر کا قصبہ وسطی صوبہ حمص میں لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور دارالحکومت دمشق سے ساحلی علاقے کی جانب جانے والی شاہراہ اسی قصبے سے ہوکر گذرتی ہے۔اس وجہ سے شامی حکومت اور باغی دونوں ہی اس کو تزویراتی لحاظ اپنے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں